Chapter No 9-پارہ نمبر    ‹       The Heights-7 سورت الاعراف ›Ayah No-189 ایت نمبر
| هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ |
| آسان اُردو | وہ(یعنی اللہ) ہے جس نے تم کو ایک نفس (حضرت آدم ؑ) سے پیدا کیا، اور اُس (نفس) سے اُس کی زوجہ (بیوی) بنائی تاکہ وہ (انسان) اُس ( زوجہ ) سے آرام (سکون) پائے پس جب وہ (مرد) اُس (اپنی زوجہ) کو ڈھانپ لیتا (یعنی اُس سے ہمبستری کرتا )ہے تووہ(بیوی) ایک ہلکا سا بوجھ اُٹھا لیتی ہے پھروہ (زوجہ) اس (حمل) سے چلتی پھرتی رہتی ہے (یعنی اس کو حمل محسوس نہیں ہوتا)، پس جب وہ بوجھ (حمل) بھاری ہو جاتا ہے تو وہ دونوں (میاں بیوی) اللہ کو پکارتے ہیں جو ان کا رب ہے:کہ اگر تُو ہمیں ایک صالح (نیک ، تندرست بچہ) دے گا تو واقعی ہم شکر گزاروں میں سے ہوں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس کے پاس آکر تسکین حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو عورت نے حمل کا ایک ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا، جسے لے کر وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں (میاں بیوی) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ : اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر ادا کریں گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے |
| احمد رضا خان | وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے، |
| احمد علی | وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ اس سے آرام پائے پھر جب میاں نے بیوی سے ہم بستری کی تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا پھر اسے لیے پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تب دونوں میاں بیوی نے الله سے جو ان کا مالک ہے دعا کی اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم اولاد دے دی تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے |
| فتح جالندھری | وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے |
| طاہر القادری | اور وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی میں سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر جب مرد نے اس (عورت) کو ڈھانپ لیا تو وہ خفیف بوجھ کے ساتھ حاملہ ہوگئی، پھر وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ گراں بار ہوئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں اچھا تندرست بچہ عطا فرما دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے، |
| علامہ جوادی | وہی خد اہے جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا ہے تاکہ اس سے سکون حاصل ہو اس کے بعد شوہر نے زوجہ سے مقاربت کی تو ہلکا سا حمل پید اہوا جسے وہ لئے پھرتی رہی پھر حمل بھاری ہوا اور وقت ولادت قریب آیا تو دونوں نے پروردگار سے دعا کی کہ اگر ہم کو صالح اولاد دے دے گا تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں ہوں گے |
| ایم جوناگڑھی | وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وه اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو اس کو حمل ره گیا ہلکا سا۔ سو وه اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی، پھر جب وه بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو ہم خوب شکر گزاری کریں گے |
| حسین نجفی | اللہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک متنفس (جاندار) سے پیدا کیا۔ اور پھر اس کی جنس سے اس کا جوڑا (شریک حیات) بنایا۔ تاکہ وہ (اس کی رفاقت میں) سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد عورت کو ڈھانک لیتا ہے۔ تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے جسے لئے وہ چلتی پھرتی رہتی ہے اور جب وہ بوجھل ہو جاتی ہے (وضعِ حمل کا وقت آجاتا ہے) تو دونوں (میاں بیوی) اپنے اللہ سے جو ان کا پروردگار ہے دعا مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں صحیح و سالم اولاد دے دی تو ہم تیرے بڑے شکر گزار ہوں گے۔ |
| M.Daryabadi: | He it is who created you from a single soul, and He created therefrom his spouse that he might find repose in her. Then when he covereth her she beareth a light burthen and fareth about there with; then when she groweth heavy the twain call upon Allah their Lord: if Thou vouchsafest us a goodly Child, we shall surely be of the thankful. |
| M.M.Pickthall: | He it is Who did create you from a single soul, and therefrom did make his mate that he might take rest in her. And when he covered her she bore a light burden, and she passed (unnoticed) with it, but when it became heavy they cried unto Allah, their Lord, saying: If thou givest unto us aright we shall be of the thankful. |
| Saheeh International: | It is He who created you from one soul and created from it its mate that he might dwell in security with her. And when he covers her, she carries a light burden and continues therein. And when it becomes heavy, they both invoke Allah, their Lord, "If You should give us a good [child], we will surely be among the grateful." |
| Shakir: | He it is Who created you from a single being, and of the same (kind) did He make his mate, that he might incline to her; so when he covers her she bears a light burden, then moves about with it; but when it grows heavy, they both call upon Allah, their Lord: If Thou givest us a good one, we shall certainly be of the grateful ones. |
| Yusuf Ali: | It is He Who created you from a single person, and made his mate of like nature, in order that he might dwell with her (in love). When they are united, she bears a light burden and carries it about (unnoticed). When she grows heavy, they both pray to Allah their Lord, (saying): "If Thou givest us a goodly child, we vow we shall (ever) be grateful." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
٭بیوی سکون اور راحت کا ذریعہ جو باری تعالی نے انسان کو عطا کیا ہے
انسانی فطرت