Chapter No 28-پارہ نمبر    ‹                The Hypocrites-63 سورت المنٰفقون ›Ayah No-4 ایت نمبر
| وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ |
| آسان اُردو | اور جب آپﷺ اُن کو دیکھتے ہیں تو اُن کے جسم آپﷺ کو اچھے لگتے ہیں؛ اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپﷺ اُن کی باتیں سنتے ہیں. (وہ ایسے ہیں) جیسے کہ وہ لباس پہنے لکڑی کے تختے ہوں. ہر چیخ (آواز) کو وہ اپنے پر ہی خیال کرتے ہیں. وہ دشمن ہیں، پس (آپﷺ) اُن سے محتاط رہیں. اللہ اُنہیں ہلاک کرے!کسطرح سے وہ اُلٹے پھر ے جاتے ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | جب تم ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول تمہیں بہت اچھے لگیں، اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ، ان کی مثال ایسی ہے جیسے یہ لکڑیاں ہیں جو کسی سہارے سے لگا رکھی ہیں، یہ ہر چیخ پکار کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی ہیں جو (تمہارے) دشمن ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ اللہ کی مار ہو ان پر۔ یہ کہاں اوندھے چلے جارہے ہیں ؟ |
| ابو الاعلی مودودی | اِنہیں دیکھو تو اِن کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں |
| احمد رضا خان | اور جب تو انہیں دیکھے ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تُو ان کی بات غور سے سنے گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں |
| احمد علی | اور جب آپ ان کو دیکھیں تو اپ کو ان کے ڈیل ڈول اچھے لگیں اور اگر وہ بات کریں تو آپ انکی بات سن لیں گویا کہ وہ دیوار سے لگی ہوئی لکڑیاں ہیں وہ ہر آواز کو اپنے ہی اُوپر خیال کرتے ہیں وہی دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہيے الله انہیں غارت کرے کہاں وہ بہکے جا رہے ہیں |
| فتح جالندھری | اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں |
| طاہر القادری | (اے بندے!) جب تو انہیں دیکھے تو اُن کے جسم (اور قد و قامت) تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر وہ باتیں کریں تو اُن کی گفتگو تُو غور سے سنے (یعنی تجھے یوں معقول دکھائی دیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ) وہ لوگ گویا دیوار کے سہارے کھڑی کی ہوئی لکڑیاں ہیں، وہ ہر اونچی آواز کو اپنے اوپر (بَلا اور آفت) سمجھتے ہیں، وہی (منافق تمہارے) دشمن ہیں سو اُن سے بچتے رہو، اللہ انہیں غارت کرے وہ کہاں بہکے پھرتے ہیں، |
| علامہ جوادی | اور جب آپ انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم بہت اچھے لگیں گے اور بات کریں گے تو اس طرح کہ آپ سننے لگیں لیکن حقیقت میں یہ ایسے ہیں جیسے دیوار سے لگائی ہوئی سوکھی لکڑیاں کہ یہ ہر چیخ کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں اور یہ واقعا دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہئے خدا انہیں غارت کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں |
| حسین نجفی | اور جب آپ(ص) انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم (اور ان کے قد و قا مت) آپ(ص) کو اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں گے تو آپ(ص) ان کی بات (توجہ) سے سنیں گے (مگر وہ عقل و ایمان سے خالی ہیں) گویا (کھوکھلی) لکڑیاں ہیں جو (دیوار وغیرہ سے) ٹیک لگا دی گئی ہیں وہ ہر چیخ کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہی (اصلی) دشمن ہیں ان سے بچ کے رہو اللہ ان کو غارت کرے یہ کہاں الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | And when thou beholdest them, their persons please thee: and if they speak, thou listenest to their discourse; they are as though they were blocks of wood propped up. They deem every shout to be against them. They are the enemy; so beware of them. Perish them Allah! whither are they deviating! |
| M.M.Pickthall: | And when thou seest them their figures please thee; and if they speak thou givest ear unto their speech. (They are) as though they were blocks of wood in striped cloaks. They deem every shout to be against them. They are the enemy, so beware of them. Allah confound them! How they are perverted! |
| Saheeh International: | And when you see them, their forms please you, and if they speak, you listen to their speech. [They are] as if they were pieces of wood propped up - they think that every shout is against them. They are the enemy, so beware of them. May Allah destroy them; how are they deluded? |
| Shakir: | And when you see them, their persons will please you, and If they speak, you will listen to their speech; (they are) as if they were big pieces of wood clad with garments; they think every cry to be against them. They are the enemy, therefore beware of them; may Allah destroy them, whence are they turned back? |
| Yusuf Ali: | When thou lookest at them, their exteriors please thee; and when they speak, thou listenest to their words. They are as (worthless as hollow) pieces of timber propped up, (unable to stand on their own). They think that every cry is against them. They are the enemies; so beware of them. The curse of Allah be on them! How are they deluded (away from the Truth)! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے