Chapter No 27-پارہ نمبر    ‹               The Mount-52 سورت الطور ›Ayah No-45 ایت نمبر
| فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ |
| آسان اُردو | پس (آپﷺ) اُنہیں چھوڑ دیں، حتی کہ وہ اپنے اس دن سے مل لیں، جس میں وہ لرز(خوف زدہ، دہشت زدہ ہو) جائیں گے، |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | لہذا (اے پیغمبر) تم انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دو ، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس میں ان کے ہوش جاتے رہیں گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پس اے نبیؐ، اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے |
| احمد رضا خان | تو تم انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں جس میں بے ہوش ہوں گے |
| احمد علی | پس آپ انہیں چھوڑ دیجیئے یہاں تک کہ وہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے |
| فتح جالندھری | پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ روز جس میں وہ بےہوش کردیئے جائیں گے، سامنے آجائے |
| طاہر القادری | سو آپ اُن کو (اُن کے حال پر) چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے آملیں جس میں وہ ہلاک کر دیئے جائیں گے، |
| علامہ جوادی | تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ دن دیکھ لیں جس دن بیہوش ہوجائیں گے |
| ایم جوناگڑھی | تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے |
| حسین نجفی | پس انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن تک پہنچ جائیں جس میں وہ غش کھا کر گر جائیں گے۔ |
| M.Daryabadi: | Wherefore let them alone, till they meet their Day whereon they shall swoon. |
| M.M.Pickthall: | Then let them be (O Muhammad), till they meet their day, in which they will be thunder-stricken, |
| Saheeh International: | So leave them until they meet their Day in which they will be struck insensible - |
| Shakir: | Leave them then till they meet that day of theirs wherein they shall be made to swoon (with terror): |
| Yusuf Ali: | So leave them alone until they encounter that Day of theirs, wherein they shall (perforce) swoon (with terror),- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
قران کے منکروں کے بارے میں