Chapter No 26-پارہ نمبر    ‹                  Victory-48 سورت الفتح ›Ayah No-12 ایت نمبر
| بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا |
| آسان اُردو | نہیں!، تم نے تو سوچا تھا کہ رسولﷺ اور مومنین اب کبھی بھی اپنے لوگوں کے پاس واپس نہیں آئیں گے، اور وہ (سوچ) تمہارے دلوں میں خوبصورت بنا دی گئی تھی، اور تم نے سوچی ایک بری سوچ، اور تم ایک فضول لوگ ہو |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھا تھا کہ رسول ﷺ اور دوسرے مسلمان کبھی اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے، اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کیے تھے، اور تم ایسے لوگ بن گئے تھے جنہیں برباد ہونا تھا۔ | ابو الاعلی مودودی | (مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے اور تم سخت بد باطن لوگ ہو" |
| احمد رضا خان | بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے |
| احمد علی | بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ رسول الله اور مسلمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی واپس نہ لوٹیں گے اور تمہارے دلوں میں یہ بات اچھی معلوم ہوئی اور تم نے بہت برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے |
| فتح جالندھری | بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے |
| طاہر القادری | بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہلِ ایمان (یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم) اب کبھی بھی پلٹ کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں آئیں گے اور یہ (گمان) تمہارے دلوں میں (تمہارے نفس کی طرف سے) خُوب آراستہ کر دیا گیا تھا اور تم نے بہت ہی برا گمان کیا، اور تم ہلاک ہونے والی قوم بن گئے، |
| علامہ جوادی | اصل میں تمہارا خیال یہ تھا کہ رسول اور صاحبانِ ایمان اب اپنے گھر والوں تک پلٹ کر نہیں آسکتے ہیں اور اس بات کو تمہارے دلوں میں خوب سجا دیا گیا تھا اور تم نے بدگمانی سے کام لیا اور تم ہلاک ہوجانے والی قوم ہو |
| ایم جوناگڑھی | (نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے |
| حسین نجفی | (اصل بات یہ ہے کہ) تم نے خیال کیا تھا کہ رسول(ص) اور اہلِ ایمان اب کبھی بھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برے گمان کئے (اسی طرح) تم برباد ہو نے والی جماعت بن گئے۔ |
| M.Daryabadi: | Yea! ye imagined that the apostle and the believers would never return to their households, and that became fair-seeming in your hearts, and ye bethought an evil thought, and ye became a people doomed. |
| M.M.Pickthall: | Nay, but ye deemed that the messenger and the believers would never return to their own folk, and that was made fairseeming in your hearts, and ye did think an evil thought, and ye were worthless folk. |
| Saheeh International: | But you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, ever, and that was made pleasing in your hearts. And you assumed an assumption of evil and became a people ruined." |
| Shakir: | Nay! you rather thought that the Apostle and the believers would not return to their families ever, and that was made fairseeming to your hearts and you thought an evil thought and you were a people doomed to perish. |
| Yusuf Ali: | "Nay, ye thought that the Messenger and the Believers would never return to their families; this seemed pleasing in your hearts, and ye conceived an evil thought, for ye are a people lost (in wickedness)." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
تاریخی ایت۔
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے