اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 26-پارہ نمبر                 Muhammad-47 سورت محمدﷺ Ayah No-4 ایت نمبر

فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ اِذَا اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَٰكِنْ لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِيْلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ اَعْمَالَهُمْ ‎
آسان اُردو پھر جب تم (لڑائی میں) سامنا کرو اُن کا جو کفر (انکار) کرتے ہیں پس (انکی)گردنوں کو اُڑا دینا حتی کہ جب تم اُن کے پاؤں اکھاڑ دو، تو پھر(زندہ کافرین کو) مضبوطی سے باندھ لو؛ پھراس کے بعد یا تو احسان کر دینایا فدیہ حتی کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی بند ہو جائے). اسطرح ہی (حکم) ہے. اور اگر اللہ چاہتا تو وہ اُن(کافرین) سے انتقام لے لیتا لیکن (اسطرح ہی اس نے حکم دیا ہے) تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض سے آزمائے. اور وہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتے ہیں پھر ہر گزوہ اُن کے اعمال کو گمراہ (یعنی ضائع) نہیں کرتا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور جب ان لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہو جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے، تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کی طاقت کچل چکے ہو، تو مضبوطی سے گرفتار کرلو، پھر چاہے احسان کر کے چھوڑ دو ، یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار پھینک کر ختم ہوجائے۔ تمہیں تو یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعے امتحان لے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں کرے گا۔
ابو الاعلی مودودی پس جب اِن کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا، مگر (یہ طریقہ اُس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
احمد رضا خان تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو تو گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو یہاں تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا مگر اس لئے تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا
احمد علی پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کر لو تو ان کی مشکیں کس لو پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہی (حکم) ہے اور اگر الله چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے اور جو الله کی راہ میں مارے گئے ہیں الله ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا
فتح جالندھری جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
طاہر القادری پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) (بلامعاوضہ) احسان کر کے (چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضہِء رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔ یہی (حکم) ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان سے (بغیر جنگ) انتقام لے لیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا،
علامہ جوادی پس جب کفار سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں اڑادو یہاں تک کہ جب زخموں سے چور ہوجائیں تو ان کی مشکیں باندھ لو پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دیا جائے یا فدیہ لے لیا جائے یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے - یہ یاد رکھنا اور اگر خدا چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا لیکن وہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ آزمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اس کی راہ میں قتل ہوئے وہ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرسکتا ہے
ایم جوناگڑھی تو جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوتو گردنوں پر وار مارو۔ جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قید وبند سے گرفتار کرو، (پھر اختیار ہے) کہ خواه احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر تاوقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ یہی حکم ہے اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا، لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے، جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا
حسین نجفی پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ۔ یہاں تک کہ جب خوب خون ریزی کر چکو (خوب قتل کر لو) تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے)یا تو احسان کرو (رہا کردو)یا فدیہلے لو یہاں تک کہ جنگ میں اپنے ہتھیار ڈال دے (یہ حکم) اسی طرح ہے اور اگر خدا چاہتا تو خود ہی ان سے انتقاملے لیتا لیکن وہ تم لوگوں کے بعض کو بعض سے آزمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
=========================================
M.Daryabadi: Now when ye meet those who disbelieve, smite their necks until when ye have slain them greatly, then make fast the bonds; then, thereafter let them off either freely or by ransom, until the war layeth down the burthens thereof. That ye shall do. And had Allah willed, He would have vindicated Himself against them, but He ordained fighting in order that He may prove you one by the other. And those who are slain in the way of Allah, He shall not send their works astray.
M.M.Pickthall: Now when ye meet in battle those who disbelieve, then it is smiting of the necks until, when ye have routed them, then making fast of bonds; and afterward either grace or ransom till the war lay down its burdens. That (is the ordinance). And if Allah willed He could have punished them (without you) but (thus it is ordained) that He may try some of you by means of others. And those who are slain in the way of Allah, He rendereth not their actions vain.
Saheeh International: So when you meet those who disbelieve [in battle], strike [their] necks until, when you have inflicted slaughter upon them, then secure their bonds, and either [confer] favor afterwards or ransom [them] until the war lays down its burdens. That [is the command]. And if Allah had willed, He could have taken vengeance upon them [Himself], but [He ordered armed struggle] to test some of you by means of others. And those who are killed in the cause of Allah - never will He waste their deeds.
Shakir: So when you meet in battle those who disbelieve, then smite the necks until when you have overcome them, then make (them) prisoners, and afterwards either set them free as a favor or let them ransom (themselves) until the war terminates. That (shall be so); and if Allah had pleased He would certainly have exacted what is due from them, but that He may try some of you by means of others; and (as for) those who are slain in the way of Allah, He will by no means allow their deeds to perish.
Yusuf Ali: Therefore, when ye meet the Unbelievers (in fight), smite at their necks; At length, when ye have thoroughly subdued them, bind a bond firmly (on them): thereafter (is the time for) either generosity or ransom: Until the war lays down its burdens. Thus (are ye commanded): but if it had been Allah's Will, He could certainly have exacted retribution from them (Himself); but (He lets you fight) in order to test you, some with others. But those who are slain in the Way of Allah,- He will never let their deeds be lost.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

٭پہلی بات کہ حالت جنگ ہو یعنی جنگ ہو رہی ہو. جنگ کن حالات کی وجہ سے مسلمانوں نے کرنی ہے قرآن اس سلسلے میں صاف طور پر بتاتا ہے.
یہ اس وقت ہے جب کافرین سے جنگ ہونی شروع ہو جائے. دوسری چیز یہ کہ پکڑے ہوئے کو جان سے نہیں مارنا پہلے احسان کی بات کی
پھر فدیہ کی بات ہے