Chapter No 25-پارہ نمبر    ‹              Crouching-45 سورت الجاثیہ ›Ayah No-12 ایت نمبر
| اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ |
| آسان اُردو | اللہ ہے جس نے تمہارے لیے سمندر فرمانبردار کیاہے تاکہ اُس میں اُس کے حکم سے کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اُس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر کرو؛ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو |
| احمد رضا خان | اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں دریا کردیا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو اور اس لیے کہ حق مانو |
| احمد علی | الله ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو تابع کر دیا تاکہ ا س میں اس کے حکم سے جہاز چلیں اورتاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم اس کا شکر کرو |
| فتح جالندھری | خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو |
| طاہر القادری | اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے قابو میں کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اُس میں جہاز اور کشتیاں چلیں اور تاکہ تم (بحری راستوں سے بھی) اُس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کر سکو، اور اس لئے کہ تم شکر گزار ہو جاؤ، |
| علامہ جوادی | اللہ ہی نے تمہارے لئے دریا کو لَسخّر کیا ہے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چل سکیں اور تم اس کے فضل و کرم کو تلاش کرسکو اور شاید اس کا شکریہ بھی ادا کرسکو |
| ایم جوناگڑھی | اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجاﻻؤ |
| حسین نجفی | اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کومسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر کرو۔ |
| M.Daryabadi: | Allah it is Who hath subjected the sea for your sake, that the ships may run thereon by His command and that ye may seek of His grace, and that haply ye may return thanks. |
| M.M.Pickthall: | Allah it is Who hath made the sea of service unto you that the ships may run thereon by His command, and that ye may seek of His bounty, and that haply ye may be thankful; |
| Saheeh International: | It is Allah who subjected to you the sea so that ships may sail upon it by His command and that you may seek of His bounty; and perhaps you will be grateful. |
| Shakir: | Allah is He Who made subservient to you the sea that the ships may run therein by His command, and that you may seek of His grace, and that you may give thanks. |
| Yusuf Ali: | It is Allah Who has subjected the sea to you, that ships may sail through it by His command, that ye may seek of his Bounty, and that ye may be grateful. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت
شان بار تعالی