اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 25-پارہ نمبر        Ornaments of Gold-43 سورت الزخرف Ayah No-28 ایت نمبر

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ
آسان اُردو اور اُس (ابراہیم ؑ)نے اس (تاکید) کو اپنے بعدآنے والوں میں ایک باقی رہنے والا لفظ بنا دیا، کہ شاید وہ (اللہ کی طرف) رجوع کیا کریں
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور ابراہیم نے اس (عقیدے) کو ایسی بات بنادیا جو ان کی اولاد میں باقی رہی، تاکہ لوگ (شرک سے) باز آئیں۔
ابو الاعلی مودودی اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں
احمد رضا خان اور اسے اپنی نسل میں باقی کلام رکھا کہ کہیں وہ باز آئیں
احمد علی اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گیا تاکہ وہ رجوع کریں
فتح جالندھری اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں
طاہر القادری اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اس (کلمۂ توحید) کو اپنی نسل و ذریّت میں باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کرتے رہیں،
علامہ جوادی اور انہوں نے اس پیغام کو اپنی نسل میں ایک کلمہ باقیہ قرار دے دیا کہ شاید وہ لوگ خدا کی طرف پلٹ آئیں
ایم جوناگڑھی اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں
حسین نجفی اور وہ (ابراہیم(ع)) اسی (عقیدۂ توحید) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دے گئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
=========================================
M.Daryabadi: And he made it a word lasting among his posterity that haply they should return.
M.M.Pickthall: And he made it a word enduring among his seed, that haply they might return.
Saheeh International: And he made it a word remaining among his descendants that they might return [to it].
Shakir: And he made it a word to continue in his posterity that they may return.
Yusuf Ali: And he left it as a Word to endure among those who came after him, that they may turn back (to Allah).
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد ایت
حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں