Chapter No 24-پارہ نمبر    ‹                   The Believer-40 سورت المومن ›Ayah No-83 ایت نمبر
| فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ |
| آسان اُردو | پھرجب اُن کے رسول اُن کے پاس (اللہ کی حاکمیت کے) واضح ثبوت سے آئے تو وہ اُس علم کی وجہ سے جو اُن کے پاس تھا اترائے. اور وہ جس (عذاب) کا وہ مذاق بنایا کرتے تھے، اُسی نے اُن کو گھیر لیا |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | چنانچہ جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے تب بھی وہ اپنے اس علم پر ہی ناز کرتے رہے جو ان کے پاس تھا، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اسی نے ان کو آگھیرا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا، اور پھر اُسی چیز کے پھیر میں آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے |
| احمد رضا خان | تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے |
| احمد علی | پس جب ان کے رسول ان کے پا س کھلی دلیلیں لائے تووہ اپنے علم و دانش پر اترانے لگے اور جس پر وہ ہنسی کرتےتھے وہ ان پر الٹ پڑا |
| فتح جالندھری | اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا |
| طاہر القادری | پھر جب اُن کے پیغمبر اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے اور (اسی حال میں) انہیں اُس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، |
| علامہ جوادی | پھر جب ان کے پاس رسول معجزات لے کر آئے تو اپنے علم کی بنا پر ناز کرنے لگے اور نتیجہ میں جس بات کا مذاق اُڑا رہے تھے اسی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا |
| ایم جوناگڑھی | پس جب بھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے، بالﺂخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وه ان پر الٹ پڑی |
| حسین نجفی | جب ان کے رسول ان کے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آئے تو وہ اپنے اس علم پر نازاں و فرحاں رہے جو ان کے پاس تھا اور (انجامِ کار) اسی (عذاب) نے انہیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ |
| M.Daryabadi: | And when their apostles came Unto them with evidences, they exulted in the knowledge which was with them, and there surrounded them that which they had been mocking. |
| M.M.Pickthall: | And when their messengers brought them clear proofs (of Allah's Sovereignty) they exulted in the knowledge they (themselves) possessed. And that which they were wont to mock befell them. |
| Saheeh International: | And when their messengers came to them with clear proofs, they [merely] rejoiced in what they had of knowledge, but they were enveloped by what they used to ridicule. |
| Shakir: | Then when their apostles came to them with clear arguments, they exulted in what they had with them of knowledge, and there beset them that which they used to mock. |
| Yusuf Ali: | For when their messengers came to them with Clear Signs, they exulted in such knowledge (and skill) as they had; but that very (Wrath) at which they were wont to scoff hemmed them in. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
٭علم کا غرور نہ کرو