Chapter No 23-پارہ نمبر    ‹                   Sad-38 سورت ص ›Ayah No-6 ایت نمبر
| وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ |
| آسان اُردو | اوراُن (کافرین)میں سے سردار (یہ کہتے ہوئے) چل پڑتے ہیں: کہ چلواور اپنے معبودوں پر پکے رہو. بے شک! وہ (ایک معبود کا ہونا)،واقعی، ایک (خود ہی) بنائی ہوئی چیز ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور ان میں کے سردار لوگ یہ کہہ کر چلتے بنے کہ : چلو اور اپنے خداؤں (کی عبادت) پر ڈٹے رہو یہ بات تو ایسی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی ارادے ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ "چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جا رہی ہے |
| احمد رضا خان | اور ان میں کے سردار چلے کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بیشک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے، |
| احمد علی | اور ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو بے شک اس میں کچھ غرض ہے |
| فتح جالندھری | تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے |
| طاہر القادری | اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہے، |
| علامہ جوادی | اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر چل دیا چلو اپنے خداؤں پر قائم رہو کہ اس میں ان کی کوئی غرض پائی جاتی ہے |
| ایم جوناگڑھی | ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے |
| حسین نجفی | اور ان کے بڑے لوگ (سردار) یہ کہتے ہوئے (آپ(ص) کے پاس سے) اٹھ کھڑے ہوئے (اور قوم سے کہا) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر صبر و ثبات سے قائم رہو (ڈٹے رہو) یقیناً اس بات میں (اس شخص کی) کوئی غرض ہے۔ |
| M.Daryabadi: | The chiefs among them departed saying: go, and persevere in your gods; verily this is a thing designed. |
| M.M.Pickthall: | The chiefs among them go about, exhorting: Go and be staunch to your gods! Lo! this is a thing designed. |
| Saheeh International: | And the eminent among them went forth, [saying], "Continue, and be patient over [the defense of] your gods. Indeed, this is a thing intended. |
| Shakir: | And the chief persons of them break forth, saying: Go and steadily adhere to your gods; this is most surely a thing sought after. |
| Yusuf Ali: | And the leader among them go away (impatiently), (saying), "Walk ye away, and remain constant to your gods! For this is truly a thing designed (against you)! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے