Chapter No 23-پارہ نمبر    ‹                   Sad-38 سورت ص ›Ayah No-24 ایت نمبر
| قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ |
| آسان اُردو | اس(داؤدؐ) نے کہا:بے شک! اُس نے اپنی دنبیوں کی طرف (کرنے کے لیے) تیری دنبی کے مطالبے (سوال)سے تم سے ناانصافی کی ہے، اور بے شک! حصہ داروں میں سے اکثر، واقعی اُن میں سے بعض بعض پر زیادتی کرتے ہیں ماسوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال بھی کرتے ہیں اور وہ (ایسے لوگ)بہت ہی کم ہوتے ہیں اور داود ؑ کوگمان ہوا کہ ہم (یعنی اللہ) نے اُس کوصرف آزمایا ہے، پس اُس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور رکوع کرتا ہوا(سجدے میں) گر پڑا اور توبہ کی |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | داؤد نے کہا : اس نے اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کے لیے تمہاری دنبی کا جو مطالبہ کیا ہے اس میں یقینا تم پر ظلم کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ جن کے درمیان شرکت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور وہ بہت کم ہیں۔ اور داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے دراصل ان کی آزمائش کی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی، جھک کر سجدے میں گرگئے اور اللہ سے لو لگائی۔ |
| ابو الاعلی مودودی | داؤدؑ نے جواب دیا: "اِس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں" (یہ بات کہتے کہتے) داؤدؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا |
| احمد رضا خان | داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا اور رجوع لایا، (السجدة ۱۰) |
| احمد علی | کہا البتہ اس نے تجھ پر ظلم کیا جو تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کا سوال کیا گور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں مگر جو ایماندار ہیں اور انہوں نے نیک کام بھی کیے اور وہ بہت ہی کم ہیں اور داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے پھر اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدہ میں گر پڑا اور توبہ کی |
| فتح جالندھری | انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا |
| طاہر القادری | داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تمہاری دُنبی کو اپنی دُنبیوں سے ملانے کا سوال کر کے اس نے تم سے زیادتی کی ہے اور بیشک اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ہم نے (اس مقدّمہ کے ذریعہ) اُن کی آزمائش کی ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گر پڑے اور توبہ کی، |
| علامہ جوادی | داؤد علیھ السّلام نے کہا کہ اس نے تمہاری رَنبی کا سوال کرکے تم پر ظلم کیاہے اور بہت سے شرکائ ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبان هایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں .... اور داؤد علیھ السّلام نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے |
| ایم جوناگڑھی | آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا |
| حسین نجفی | داؤد(ع) نے کہا اس شخص نے اتنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملانے کا مطالبہ کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے اور اکثر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان کے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور (یہ بات کہتے ہوئے) داؤد (ع) نے خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کی اور اس کے حضور جھک گئے اور توبہ و انابہ کرنے لگے۔ |
| M.Daryabadi: | Da-ud said: assuredly he hath wronged thee in demanding thine ewe in addition to his ewes, and verily many of the partners oppress each other save such as believe and work righteous works, and few are they. And Da-ud imagined that We had tried him; so he asked forgiveness of his Lord, and he fell down bowing and turned in penitence. |
| M.M.Pickthall: | (David) said: He hath wronged thee in demanding thine ewe in addition to his ewes, and lo! many partners oppress one another, save such as believe and do good works, and they are few. And David guessed that We had tried him, and he sought forgiveness of his Lord, and he bowed himself and fell down prostrate and repented. |
| Saheeh International: | [David] said, "He has certainly wronged you in demanding your ewe [in addition] to his ewes. And indeed, many associates oppress one another, except for those who believe and do righteous deeds - and few are they." And David became certain that We had tried him, and he asked forgiveness of his Lord and fell down bowing [in prostration] and turned in repentance [to Allah]. |
| Shakir: | He said: Surely he has been unjust to you in demanding your ewe (to add) to his own ewes; and most surely most of the partners act wrongfully towards one another, save those who believe and do good, and very few are they; and Dawood was sure that We had tried him, so he sought the protection of his Lord and he fell down bowing and turned time after time (to Him). |
| Yusuf Ali: | (David) said: "He has undoubtedly wronged thee in demanding thy (single) ewe to be added to his (flock of) ewes: truly many are the partners (in business) who wrong each other: Not so do those who believe and work deeds of righteousness, and how few are they?"... and David gathered that We had tried him: he asked forgiveness of his Lord, fell down, bowing (in prostration), and turned (to Allah in repentance). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے