Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           Saba-34 سورت سبا ›Ayah No-33 ایت نمبر
| وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ |
| آسان اُردو | اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور تھے اُن لوگوں سے جو متکبر تھے: نہیں، رات اور دن کی تدبیریں جب تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ اللہ سے کفر کرو اور اُس کے ہمسر (رقیب، برابری کرنے والے) بناؤ. اوروہ ندامت کو چھپائیں گے جب عذاب کو دیکھیں گے؛ اور ہم اُن لوگوں کی گردنوں میں جو کفر کرتے ہیں طوق ڈال دیں گے. کیا جزا(بدلہ) دیا جا رہا ہے ان کو ماسوائے کہ جو وہ کیا کرتے تھے؟(یعنی سزا صرف ان کے کیے کی ہی ان کو دی جارہی ہے.) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ : نہیں، یہ تمہاری رات دن کی مکاری ہی تو تھی (جس نے ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں تاکید کرتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کا معاملہ کریں، اور اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک مانیں۔ اور یہ سب جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنا پچھتاوا چھپا رہے ہوں گے۔ اور جن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ہم ان سب کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ ان کو کسی اور بات کا نہیں، انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے، "نہیں، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیرائیں" آخرکار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟ |
| احمد رضا خان | اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے جب عذاب دیکھا اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے |
| احمد علی | اورجو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ ان سے کہیں گے جو متکبر تھے بلکہ (تمہارے) رات اور دن کے فریب نے جب تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم الله کا انکار کر دیں اوراس کے لیے شریک ٹھیرائیں اور دل میں بڑے پشیمان ہوں گے جب عذاب کو سامنے دیکھیں گے اورکافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈالیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اسی کا تو بدلہ پا رہے ہیں |
| فتح جالندھری | اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا |
| طاہر القادری | پھر کمزور لوگ متکبرّوں سے کہیں گے: بلکہ (تمہارے) رات دن کے مَکر ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور ہم اس کے لئے شریک ٹھہرائیں، اور وہ (ایک دوسرے سے) ندامت چھپائیں گے جب وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، اور انہیں اُن کے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گا، |
| علامہ جوادی | اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ یہ تمہاری دن رات کی مکاری کا اثر ہے جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ خدا کا انکار کریں اور اس کے لئے مثل قرار دیں اور عذاب دیکھنے کے بعد لوگ اپنے دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہوں گے اور ہم کفر اختیار کرنے والوں کی گردن میں طوق بھی ڈال دیں گے کیا ان کو اس کے علاوہ کوئی بدلہ دیا جائے گا جو اعمال یہ کرتے رہے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | (اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا |
| حسین نجفی | اور کمزور لوگ (جواب میں) بڑا بننے والوں سے کہیں گے کہ (اس طرح نہیں) بلکہ یہ (تمہارے) شب و روز کے مکر و فریب نے ہمیں قبولِ حق سے باز رکھا جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے ہمسر (شریک) ٹھہرائیں اور یہ لوگ جب عذابِ الٰہی کو دیکھیں گے تو ندامت و پشیمانی کو دل میں چھپائیں گے (دلوں میں پچھتائیں گے) اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے یہ لوگ (دنیا میں) جیسے عمل کرتے تھے (آج) ان کا ہی ان کو بدلہ دیا جائے گا۔ |
| M.Daryabadi: | And those who were deemed weak will say Unto those who were stiff necked: aye, it was your plotting by night and by day, When ye were commanding us that we should disbelieve in Allah and set up peers Unto Him. And they Will keep secret their shame when they behold the torment. And We shall place shackles on the necks of those who disbelieved. They shall be requited not save according to that which they had been working. |
| M.M.Pickthall: | Those who were despised say unto those who were proud: Nay but (it was your) scheming night and day, when ye commanded us to disbelieve in Allah and set up rivals unto Him. And they are filled with remorse when they behold the doom; and We place carcans on the necks of those who disbelieved. Are they requited aught save what they used to do? |
| Saheeh International: | Those who were oppressed will say to those who were arrogant, "Rather, [it was your] conspiracy of night and day when you were ordering us to disbelieve in Allah and attribute to Him equals." But they will [all] confide regret when they see the punishment; and We will put shackles on the necks of those who disbelieved. Will they be recompensed except for what they used to do? |
| Shakir: | And those who were deemed weak shall say to those who were proud. Nay, (it was) planning by night and day when you told us to disbelieve in Allah and to set up likes with Him. And they shall conceal regret when they shall see the punishment; and We will put shackles on the necks of those who disbelieved; they shall not be requited but what they did. |
| Yusuf Ali: | Those who had been despised will say to the arrogant ones: "Nay! it was a plot (of yours) by day and by night: Behold! Ye (constantly) ordered us to be ungrateful to Allah and to attribute equals to Him!" They will declare (their) repentance when they see the Penalty: We shall put yokes on the necks of the Unbelievers: It would only be a requital for their (ill) Deeds. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
قران اور قران سے پہلے والی کتابوں کے کافر لوگوں کے بارے میں