Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           Saba-34 سورت سبا ›Ayah No-19 ایت نمبر
| فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ |
| آسان اُردو | پھر اُن (یعنی اہل سبا) نے کہا: ہمارے رب! ہمارے سفروں کے درمیان لمبائی(طُول) کر دے. اور اُنہوں نے اپنے پر ظلم کیاپھر ہم نے اُن کو(پرانی)باتیں بنا ڈالا اور ہم نے اُن کو ملیا میٹ کر دیا ایک مکمل ملیا میٹ. بے شک! ان (چیزوں) میں واقعی ہر صابر اور شکر گزار کے لیے (اللہ کی حاکمیت کی) نشانیاں ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اس پر وہ کہنے لگے کہ : ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر کی منزلوں کے درمیان دور دور کے فاصلے پیدا کردے، اور یوں انہوں نے اپنی جانوں پر ستم ڈھایا، جس کے نتیجے میں ہم نے انہیں افسانہ ہی افسانہ بنادیا، اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بالکل تتر بتر کردیا۔ یقینا اس واقعے میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو صبر و شکر کا خوگر ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو |
| احمد رضا خان | تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں کردیا اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے |
| احمد علی | پھر انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہماری منزلوں کو دور دور کردےا ور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا سو ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا اور ہم نے انہیں پورے طور پر پارہ پارہ کر دیا بے شک اس میں ہر ایک صبر شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں |
| فتح جالندھری | تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں |
| طاہر القادری | تو وہ کہنے لگے: اے ہمارے رب! ہماری منازلِ سفر کے درمیان فاصلے پیدا کر دے، اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں (عبرت کے) فسانے بنا دیا اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے منتشر کر دیا۔ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیں، |
| علامہ جوادی | تو انہوں نے اس پر بھی یہ کہا کہ پروردگار ہمارے سفر دور دراز بنادے اوراس طرح اپنے نفس پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں کہانی بناکر چھوڑ دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ یقینا اس میں صبر و شکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں |
| ایم جوناگڑھی | لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کردے چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کردیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے۔ بلاشبہ ہر ایک صبروشکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں |
| حسین نجفی | (مگر) انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں (ان کی مسافتوں) کو دور دراز کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ہم نے انہیں (برباد) کرکے افسانہ بنا دیا اور بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے (اور) بہت شکر کرنے والے کیلئے۔ |
| M.Daryabadi: | Then they said: Our Lord make the distance between our journeys longer. And they wronged themselves. Wherefore We made them by words and dispersed them with a total dispersion. Verily herein are signs for every persevering, grateful persons. |
| M.M.Pickthall: | But they said: Our Lord! Make the stage between our journeys longer. And they wronged themselves, therefore We made them bywords (in the land) and scattered them abroad, a total scattering. Lo! herein verily are portents for each steadfast, grateful (heart). |
| Saheeh International: | But [insolently] they said, "Our Lord, lengthen the distance between our journeys," and wronged themselves, so We made them narrations and dispersed them in total dispersion. Indeed in that are signs for everyone patient and grateful. |
| Shakir: | And they said: O our Lord! make spaces to be longer between our journeys; and they were unjust to themselves so We made them stories and scattered them with an utter scattering; most surely there are signs in this for every patient, grateful one |
| Yusuf Ali: | But they said: "Our Lord! Place longer distances between our journey-stages": but they wronged themselves (therein). At length We made them as a tale (that is told), and We dispersed them all in scattered fragments. Verily in this are Signs for every (soul that is) patiently constant and grateful. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت