اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 21-پارہ نمبر              The Clans-33 سورت الحزاب Ayah No-5 ایت نمبر

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
آسان اُردو اُن (منہ بولے بیٹوں) کو اُن کے حقیقی باپ کی نسبت سے پکارو، وہ (ایسا کرنا)اللہ کے ہاں انصاف (والی بات) ہے. پھر اگر تم اُن کے باپ نہیں جانتے ہوتو پھر (وہ) تمہارے بھائی ہیں دین میں اور تمہارے رفیق (دوست) ہیں. اور تم پر گناہ نہیں ہے اگر تم سے کوئی اس بارے میں (نہ چاہتے ہوئے) خطا ہو جائے، لیکن جو تمہارے دلوں نے ارادہ کر کے کی ہو (اُس پر گناہ ہے). اللہ بہت معاف درگزر کرنے والا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی تم ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے اپنے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہی طریقہ اللہ کے نزدیک پورے انصاف کا ہے۔ اور اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور تم سے جو غلطی ہوجائے اس کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ جو بات تم اپنے دلوں سے جان بوجھ کر کرو، (اس پر گناہ ہے) بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
ابو الاعلی مودودی منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں نا دانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے
احمد رضا خان انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
احمد علی انہیں ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارو الله کے ہاں یہی پورا انصاف ہے سواگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں اور تمہیں اس میں بھول چوک ہو جائے تو تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن وہ جو تم دل کے ارادہ سے کرو اور الله بخشنے والا مہربان ہے
فتح جالندھری مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
طاہر القادری تم اُن (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام) سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ اور اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں جو تم نے غلطی سے کہی لیکن (اس پر ضرور گناہ ہوگا) جس کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہو، اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،
علامہ جوادی ان بچوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارو کہ یہی خدا کی نظر میں انصاف سے قریب تر ہے اور اگر ان کے باپ کو نہیں جانتے ہو تو یہ دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور تمہارے لئے اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے جو تم سے غلطی ہوگئی ہے البتہ تم اس بات کے ضرور ذمہ دار ہو جو تمہارے دلوں سے قصداانجام دی ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
ایم جوناگڑھی لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے
حسین نجفی ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم نہ ہو تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم سے جو بھول چوک ہو جائے اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں البتہ (گناہ اس پر ہے) جو تم دل سے ارادہ کرکے کرو۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: Call them by their fathers: that will be most equitable in the sight of Allah. And if ye know not their fathers then they are your brethren in religion and your friends. And there is no fault upon you in regard to the mistake ye have made therein, but in regard to that which your hearts intend purposely. And Allah is ever Forgiving, Merciful.
M.M.Pickthall: Proclaim their real parentage. That will be more equitable in the sight of Allah. And if ye know not their fathers, then (they are) your brethren in the faith, and your clients. And there is no sin for you in the mistakes that ye make unintentionally, but what your hearts purpose (that will be a sin for you). Allah is ever Forgiving, Merciful.
Saheeh International: Call them by [the names of] their fathers; it is more just in the sight of Allah. But if you do not know their fathers - then they are [still] your brothers in religion and those entrusted to you. And there is no blame upon you for that in which you have erred but [only for] what your hearts intended. And ever is Allah Forgiving and Merciful.
Shakir: Assert their relationship to their fathers; this is more equitable with Allah; but if you do not know their fathers, then they are your brethren in faith and your friends; and there is no blame on you concerning that in which you made a mistake, but (concerning) that which your hearts do purposely (blame may rest on you), and Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf Ali: Call them by (the names of) their fathers: that is juster in the sight of Allah. But if ye know not their father's (names, call them) your Brothers in faith, or your maulas. But there is no blame on you if ye make a mistake therein: (what counts is) the intention of your hearts: and Allah is Oft-Returning, Most Merciful.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے۔ محکم ایت ہے
علمی ایت
٭رشتوں کا احترام بتایا گیا ماں، ماں ہے اور بیوی، بیوی ہے. حقیقی بیٹا ہی اپنا بیٹا ہوتا ہے