Chapter No 21-پارہ نمبر    ‹           The Romans-30 سورت الروم ›Ayah No-8 ایت نمبر
| اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ |
| آسان اُردو | کیا وہ (لوگ) اپنے آپ میں غور نہیں کرتے؟ اللہ نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ دونوں کے درمیان ہے ماسوائے حق سے اور ایک مقررہ مدت کے لیے.اور بے شک لوگوں میں سے بہت زیادہ اپنے رب کی ملاقات سے کفر(انکار) کرتے ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں |
| احمد رضا خان | کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق اور ایک مقرر میعاد سے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں |
| احمد علی | کیا وہ اپنے دل میں خیال نہیں کرتے کہ الله نے آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عمدگی سے اور وقت مقرر تک کے لیے بنایا ہے اور بے شک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں |
| فتح جالندھری | کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں |
| طاہر القادری | کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر (نظامِ) حق اور مقرّرہ مدت (کے دورانیے) کے ساتھ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے مُنکِر ہیں، |
| علامہ جوادی | کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے کہ خدا نے آسمان و زمین اور اس کے درمیان کی تمام مخلوقات کو برحق ہی پیدا کیا ہے اور ایک معین مدّت کے ساتھ لیکن لوگوں کی اکثریت اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار کرنے والی ہے |
| ایم جوناگڑھی | کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں |
| حسین نجفی | کیا انہوں نے اپنے آپ میں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو (حق اور حکمت کے) ساتھ ایک مقررہ مدت تک کیلئے پیدا کیا ہے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حضوری کے منکر ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | Ponder they not in their minds: Allah hath not created the heavens and the earth and whatsoever is in-between the twain save with a purpose and for a term appointed? And verily many men in the meecing of their Lord are unbelievers. |
| M.M.Pickthall: | Have they not pondered upon themselves? Allah created not the heavens and the earth, and that which is between them, save with truth and for a destined end. But truly many of mankind are disbelievers in the meeting with their Lord. |
| Saheeh International: | Do they not contemplate within themselves? Allah has not created the heavens and the earth and what is between them except in truth and for a specified term. And indeed, many of the people, in [the matter of] the meeting with their Lord, are disbelievers. |
| Shakir: | Do they not reflect within themselves: Allah did not create the heavens and the earth and what is between them two but with truth, and (for) an appointed term? And most surely most of the people are deniers of the meeting of their Lord. |
| Yusuf Ali: | Do they not reflect in their own minds? Not but for just ends and for a term appointed, did Allah create the heavens and the earth, and all between them: yet are there truly many among men who deny the meeting with their Lord (at the Resurrection)! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت