Chapter No 21-پارہ نمبر    ‹           The Romans-30 سورت الروم ›Ayah No-30 ایت نمبر
| فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ |
| آسان اُردو | پھر(آپﷺ)اپنا چہرہ مبارک حنفی (پکے) دین کے لیے ہی سیدھارکھیں. (یہی) اللہ کی فطرت ہے، جس پر اُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے. اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے. یہ سیدھا(القیم) دین ہے، اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔۔۔ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پس (اے نبیؐ، اور نبیؐ کے پیروؤں) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں |
| احمد رضا خان | تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہوکر اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے |
| احمد علی | سو تو ایک طرف کا ہو کر دین پرسیدھا منہ کیے چلا جا الله کی دی ہوئی قابلیت پر جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے الله کی بناوٹ میں ردو بدل نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے |
| فتح جالندھری | تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے |
| طاہر القادری | پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے، |
| علامہ جوادی | آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہٰی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے |
| ایم جوناگڑھی | پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے |
| حسین نجفی | پس (اے رسول(ص)) آپ باطل سے کنارہ کش ہوکر اپنا رخ دین (حق) کی طرف رکھیں یعنی اس (دینِ) فطرت کی پیروی کریں جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | Wherefore set thou thy face towards the true religion uprightly. And follow thou the constitution of Allah according to which He hath constituted mankind. No altering let there be in Allah's creation. That is the right religion, but most men know not. |
| M.M.Pickthall: | So set thy purpose (O Muhammad) for religion as a man by nature upright - the nature (framed) of Allah, in which He hath created man. There is no altering (the laws of) Allah's creation. That is the right religion, but most men know not - |
| Saheeh International: | So direct your face toward the religion, inclining to truth. [Adhere to] the fitrah of Allah upon which He has created [all] people. No change should there be in the creation of Allah. That is the correct religion, but most of the people do not know. |
| Shakir: | Then set your face upright for religion in the right state-- the nature made by Allah in which He has made men; there is no altering of Allah's creation; that is the right religion, but most people do not know-- |
| Yusuf Ali: | So set thou thy face steadily and truly to the Faith: (establish) Allah's handiwork according to the pattern on which He has made mankind: no change (let there be) in the work (wrought) by Allah: that is the standard Religion: but most among mankind understand not. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
محکم ایت کیوں کہ اس میں حکم ہے
خطاب نبی اکرمﷺ کو ہے