Chapter No 20-پارہ نمبر    ‹           The Story-28 سورت القصص ›Ayah No-64 ایت نمبر
| وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ |
| آسان اُردو | اور کہا جائے گا: اپنے (نام نہاد) شریکوں کو پکاروپھر وہ اُنکو پکاریں گے پھر وہ اُن کو جواب نہیں دیں گے اور وہ عذاب کو دیکھیں گے.(اور کہیں گے) اے! کاش کہ اگر وہ ہدایت پا لیتے! |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور (ان کافروں سے) کہا جائے گا کہ : پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا تھا۔ چنانچہ وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہیں دیں گے، اور یہ عذاب آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ایسے ہوتے کہ ہدایت کو قبول کرلیتے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے |
| احمد رضا خان | اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے |
| احمد علی | اور کہا جائے گا اپنے شریکو ں کو پکارو پھرانہیں پکاریں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور عذاب دیکھیں گے کاش یہ لوگ ہدایت پر ہوتے |
| فتح جالندھری | اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے |
| طاہر القادری | اور (ان سے) کہا جائے گا: تم اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو بلاؤ، سو وہ انہیں پکاریں گے پس وہ (شریک) انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور وہ لوگ عذاب کو دیکھ لیں گے، کاش! وہ (دنیا میں) راہِ ہدایت پا چکے ہوتے، |
| علامہ جوادی | تو کہا جائے گا کہ اچھا اپنے شرکائ کو پکارو تو وہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے بلکہ عذاب ہی کو دیکھیں گے تو کاش یہ دنیا ہی میں ہدایت یافتہ ہوجاتے |
| ایم جوناگڑھی | کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ، وه بلائیں گے لیکن انہیں وه جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے |
| حسین نجفی | پھر (ان سے) کہا جائے گا کہ اپنے (مزعومہ) شریکوں کو بلاؤ چنانچہ وہ انہیں پکاریں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے۔ اور عذاب کو دیکھیں گے (اس پر وہ تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ |
| M.Daryabadi: | And it shall be said: Call upon your associate-gods. And they shall call upon them, and they shall not answer them, and they shall behold the torment. Would that they had received the guidance! |
| M.M.Pickthall: | And it will be said: Cry unto your (so-called) partners (of Allah). And they will cry unto them, and they will give no answer unto them, and they will see the Doom. Ah, if they had but been guided! |
| Saheeh International: | And it will be said, "Invoke your 'partners' " and they will invoke them; but they will not respond to them, and they will see the punishment. If only they had followed guidance! |
| Shakir: | And it will be said: Call your associate-gods. So they will call upon them, but they will not answer them, and they shall see the punishment; would that they had followed the right way! |
| Yusuf Ali: | It will be said (to them): "Call upon your 'partners' (for help)": they will call upon them, but they will not listen to them; and they will see the Penalty (before them); (how they will wish) 'if only they had been open to guidance!' |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
قیامت کے دن شرک کرنے والے