اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 19-پارہ نمبر              The Ant-27 سورت النمل Ayah No-44 ایت نمبر

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
آسان اُردو اُس کو کہا گیا کہ محل (ہال)میں داخل ہو. پھر جب اُس نے اس کو دیکھا تو اُس نے اس کو ایک تلاب سمجھا اور اُس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا کھول دیا(یعنی پانچے اوپر کر لیے کہ پانی میں داخل ہونا پڑے گا).اُس (سلیمانؑ) نے کہا: بے شک!یہ تو ایک محل (ہال) ہے، جو شیشے سے صاف شفاف (بنایا گیا) ہے. اُس(ملکہ) نے کہا: میرے رب!بے شک! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور میں سلیمانؑ کے ساتھ اللہ کے لیے ہی فرمانبرداری کرتی ہوں جو تمام مخلوق کا رب ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اس سے کہا گیا کہ : اس محل میں داخل ہوجاؤ اس نے جو دیکھا تو یہ سمجھی کہ یہ پانی ہے، اس لیے اس نے (پائینچے چڑھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا کہ : یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے۔ ملکہ بول اٹھی : میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ میں نے (اب تک) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبرداری قبول کرلی ہے۔
ابو الاعلی مودودی اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھا لیے سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے اس پر وہ پکار اٹھی "اے میرے رب، (آج تک) میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی"
احمد رضا خان اس سے کہا گیا صحن میں آ پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا
احمد علی اسے کہا گیا اس محل میں داخل ہو پھر جب اسے دیکھا خیال کیا کہ وہ گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھولیں کہا یہ تو ایسا محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں کہنے لگی اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ الله کی فرمانبردار ہوئی جو سارے جہاں کا رب ہے
فتح جالندھری (پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے، جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں
طاہر القادری اس (ملکہ) سے کہا گیا: اس محل کے صحن میں داخل ہو جا (جس کے نیچے نیلگوں پانی کی لہریں چلتی تھیں)، پھر جب ملکہ نے اس (مزیّن بلوریں فرش) کو دیکھا تو اسے گہرے پانی کا تالاب سمجھا اور اس نے (پائینچے اٹھا کر) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں، سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ تو محل کا شیشوں جڑا صحن ہے، اس (ملکہ) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! (میں اسی طرح فریبِ نظر میں مبتلا تھی) بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کی معیّت میں اس اللہ کی فرمانبردار ہو گئی ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے،
علامہ جوادی پھر اس سے کہا گیا کہ قصر میں داخل ہوجائے اب جو اس نے دیکھا تو سمجھی کہ کوئی گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں سلیمان نے کہا کہ یہ ایک قلعہ ہے جسے شیشوں سے منڈھ دیا گیا ہے اور بلقیس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اس خدا پر ایمان لے آئی ہوں جو عالمین کا پالنے والا ہے
ایم جوناگڑھی اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو، جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں، فرمایا یہ توشیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے، کہنے لگی میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ﻇلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں
حسین نجفی اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو (بلوریں فرش کو گہرا) پانی خیال کیا اور (گزرنے کیلئے اس طرح پائیچے اٹھائے کہ) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں۔ آپ نے کہا یہ (پانی نہیں ہے بلکہ) شیشوں سے مرصع محل ہے (اور بلوریں فرش ہے) ملکہ نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔
=========================================
M.Daryabadi: It was said unto her: enter the palace. Then when she saw it,, he deemed it a pool and bared her shanks. He said: verily it is a palace evenly floored with glass. She said: my Lord! verily I wronged my soul, and now submit myself together with Sulaiman unto Allah, the Lord of the Worlds.
M.M.Pickthall: It was said unto her: Enter the hall. And when she saw it she deemed it a pool and bared her legs. (Solomon) said: Lo! it is a hall, made smooth, of glass. She said: My Lord! Lo! I have wronged myself, and I surrender with Solomon unto Allah, the Lord of the Worlds.
Saheeh International: She was told, "Enter the palace." But when she saw it, she thought it was a body of water and uncovered her shins [to wade through]. He said, "Indeed, it is a palace [whose floor is] made smooth with glass." She said, "My Lord, indeed I have wronged myself, and I submit with Solomon to Allah, Lord of the worlds."
Shakir: It was said to her: Enter the palace; but when she saw it she deemed it to be a great expanse of water, and bared her legs. He said: Surely it is a palace made smooth with glass. She said: My Lord! surely I have been unjust to myself, and I submit with Sulaiman to Allah, the Lord of the worlds.
Yusuf Ali: She was asked to enter the lofty Palace: but when she saw it, she thought it was a lake of water, and she (tucked up her skirts), uncovering her legs. He said: "This is but a palace paved smooth with slabs of glass." She said: "O my Lord! I have indeed wronged my soul: I do (now) submit (in Islam), with Solomon, to the Lord of the Worlds."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت
حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ شیبا کے بارے میں