Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹       The Poets-26 سورت الشعراء ›Ayah No-164 ایت نمبر
| وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ |
| آسان اُردو | اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (انعام) نہیں مانگتا؛ نہیں میرا اجر (کسی پر بھی لازم) ماسوائے کہ تمام مخلوق کے رب پر |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے |
| احمد رضا خان | اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جان کا رب ہے، |
| احمد علی | اورمیں تم سے اس پر کوئی مزودری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس اللهرب العالمین کے ذمہ ہے |
| فتح جالندھری | اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے |
| طاہر القادری | اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے، |
| علامہ جوادی | اور میں تم سے اس امر کی کوئی اجرت بھی نہیں چاہتا ہوں میرا اجر تو صرف پروردگار کے ذمہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے |
| ایم جوناگڑھی | میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے |
| حسین نجفی | اور میں تم سے اس (تبلیغ رسالت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا میری اجرت تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And I ask of you no hire there for; my hire is but with the Lord of the worlds. |
| M.M.Pickthall: | And I ask of you no wage therefor; my wage is the concern only of the Lord of the Worlds. |
| Saheeh International: | And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds. |
| Shakir: | And I do not ask you any reward for it; my reward is only with the Lord of the worlds; |
| Yusuf Ali: | "No reward do I ask of you for it: my reward is only from the lord of the Worlds. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت لوطؑ اور ان کی قوم کے بارے میں