|
ایم تقی عثمانی
|
ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اور جنہوں نے آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، اور جن کو ہم نے دنیوی زندگی میں خوب عیش دے رکھا تھا، انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے۔ جو چیز تم کھاتے ہو، یہ بھی کھاتا ہے، اور جو تم پیتے ہو، یہ بھی پیتا ہے۔
|
|
ابو الاعلی مودودی
|
اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگے "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے
|
|
احمد رضا خان
|
اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے
|
|
احمد علی
|
اوراس کی قوم کے سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کی آمد کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا کہ یہ بس تمہیں جیسا آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو
|
|
فتح جالندھری
|
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی۔ کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے، جس قسم کا کھانا تم کھاتے ہو، اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور جو پانی تم پیتے ہو اسی قسم کا یہ بھی پیتا ہے
|
|
طاہر القادری
|
اور ان کی قوم کے (بھی وہی) سردار (اور وڈیرے) بول اٹھے جو کفر کر رہے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں (مال و دولت کی کثرت کے باعث) آسودگی (بھی) دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ یہ شخص تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، وہی چیزیں کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو،
|
|
علامہ جوادی
|
تو ان کی قوم کے ان رؤسائ نے جنہوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ہم نے انہیں زندگانی دنیا میں عیش و عشرت کا سامان دے دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہے جو تم کھاتے ہو وہی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی پیتا بھی ہے
|
|
ایم جوناگڑھی
|
اور سرداران قوم نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے
|
|
حسین نجفی
|
اور اس کی قوم کے وہ سردار جو کافر تھے اور آخرت کی حاضری کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیوی زندگی میں آسودگی دے رکھی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ نہیں ہے مگر تمہارے ہی جیسا ایک بشر (آدمی) ہے یہ وہی (خوراک) کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی (مشروب) پیتا ہے۔ جو تم پیتے ہو۔
|
|
M.Daryabadi:
|
And said the chiefs of those who disbelieved among his people and belied the meeting of the Hereafter and whom We had luxuriated in the life of the World: this is no other than a human being like unto you: he eateth of that whereof ye eat, and he drinketh of that which ye drink.
|
|
M.M.Pickthall:
|
And the chieftains of his folk, who disbelieved and denied the meeting of the Hereafter, and whom We had made soft in the life of the world, said: This is only a mortal like you, who eateth of that whereof ye eat and drinketh of that ye drink.
|
|
Saheeh International:
|
And the eminent among his people who disbelieved and denied the meeting of the Hereafter while We had given them luxury in the worldly life said, "This is not but a man like yourselves. He eats of that from which you eat and drinks of what you drink.
|
|
Shakir:
|
And the chiefs of his people who disbelieved and called the meeting of the hereafter a lie, and whom We had given plenty to enjoy in this world's life, said: This is nothing but a mortal like yourselves, eating of what you eat from and drinking of what you drink.
|
|
Yusuf Ali:
|
And the chiefs of his people, who disbelieved and denied the Meeting in the Hereafter, and on whom We had bestowed the good things of this life, said: "He is no more than a man like yourselves: he eats of that of which ye eat, and drinks of what ye drink.
|