اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 18-پارہ نمبر                The Believers-23 سورت المومنون  Ayah No-29 ایت نمبر

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ
آسان اُردو اور کہو: میرے رب! مجھے کسی پاک جگہ اُتار دینا، اور تُو ہی ہے جو سب سے بہتر منزل (جگہ)پر اتارتا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور کہنا : یارب ! مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔
ابو الاعلی مودودی اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تُو بہترین جگہ دینے والا ہے"
احمد رضا خان اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،
احمد علی اور کہہ اے میرے رب مجھے برکت کے ساتھ اتار اور تو بہتر اتارنے والا ہے
فتح جالندھری اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ اُتاریو اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے
طاہر القادری اور عرض کرنا: اے میرے رب! مجھے با برکت منزل پر اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،
علامہ جوادی اور یہ کہنا کہ پروردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ تو بہترین اتارنے والا ہے
ایم جوناگڑھی اور کہنا کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں
حسین نجفی اور کہنا اے میرے پروردگار! مجھے بابرکت، اتار تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: And say thou, my Lord! cause me to land at a landing blest, and thou art the Best of these who bring to land.
M.M.Pickthall: And say: My Lord! Cause me to land at a blessed landing place, for Thou art best of all who bring to land.
Saheeh International: And say, 'My Lord, let me land at a blessed landing place, and You are the best to accommodate [us].' "
Shakir: And say: O my Lord! cause me to disembark a blessed alighting, and Thou art the best to cause to alight.
Yusuf Ali: And say: "O my Lord! enable me to disembark with thy blessing: for Thou art the Best to enable (us) to disembark."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد ایت
نوحؑ کے بارے میں