Chapter No 17-پارہ نمبر   ‹             The Pilgrimage-22 سورت الحج  ›Ayah No-9 ایت نمبر
| ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ |
| آسان اُردو | اپنی گردان کو اکڑائے رکھتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کرے. اُس کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اُس کو جلنے کا عذاب چکھائیں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں ایسے شخص کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے |
| احمد رضا خان | حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکادے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے |
| احمد علی | تاکہ الله کی راہ سے بہکائے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن بھی ہم اسے دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھاویں گے |
| فتح جالندھری | (اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے |
| طاہر القادری | اپنی گردن کو (تکبّر سے) مروڑے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اﷲ کی راہ سے بہکا دے، اس کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے، |
| علامہ جوادی | وہ غرور سے منہ پھرائے ہوئے ہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی راسِ خدا سے گمراہ کرسکیں تو ایسے اشخاص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ہم انہیں جہنمّ کا مزہ چکھائیں گے |
| ایم جوناگڑھی | جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے |
| حسین نجفی | (غرور سے) اپنے شانے کو موڑے ہوئے (اور گردن اکڑائے ہوئے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں جلانے والی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ |
| M.Daryabadi: | Bending his neck, that he may lead astray from the way of Allah; his shall be humiliation in the world, and We shall make him taste on the Day of Judgment the torment of Burning. |
| M.M.Pickthall: | Turning away in pride to beguile (men) from the way of Allah. For him in this world is ignominy, and on the Day of Resurrection We make him taste the doom of burning. |
| Saheeh International: | Twisting his neck [in arrogance] to mislead [people] from the way of Allah. For him in the world is disgrace, and We will make him taste on the Day of Resurrection the punishment of the Burning Fire [while it is said], |
| Shakir: | Turning away haughtily that he may lead (others) astray from the way of Allah; for him is disgrace in this world, and on the day of resurrection We will make him taste the punishment of burning: |
| Yusuf Ali: | (Disdainfully) bending his side, in order to lead (men) astray from the Path of Allah: for him there is disgrace in this life, and on the Day of Judgment We shall make him taste the Penalty of burning (Fire). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
واضح ایت
یہ اُس انسان کا انجام ہے جو اللہ کی بابت جھگڑالو بحث کرتا ہے لیکن ، علم ہدایت اور کتاب کے بغیر وہ انسان ہوتا ہے