اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 16-پارہ نمبر                               Ta Ha-20 سورت طٰهٰ  Ayah No-121 ایت نمبر

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ
آسان اُردو پھر دونوں نے اُس (درخت) سے (پھل) کھا لیاچنانچہ اُن کی شرم گائیں اُن کو نظر آنے لگیں، اور اُنہوں نے باغ کے پتوں کو اپنے اوپر ڈھیر لگا کر اپنے آپ کو چھپانا شروع کر دیا. اور آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی چنانچہ گمراہ ہو گیا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی چنانچہ ان دونوں نے اس درخت میں سے کچھ کھالیا جس سے ان دونوں کے شرم کے مقامات ان کے سامنے کھل گئے، اور وہ دونوں جنت کے پتوں کو اپنے اوپر گانٹھنے لگے۔ اور (اس طرح) آدم نے اپنے رب کا کہا ٹالا، اور بھٹک گئے۔
ابو الاعلی مودودی آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا
احمد رضا خان تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی
احمد علی پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہوگئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا
فتح جالندھری تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
طاہر القادری سو دونوں نے (اس مقامِ قربِ الٰہی کی لازوال زندگی کے شوق میں) اس درخت سے پھل کھا لیا پس ان پر ان کے مقام ہائے سَتَر ظاہر ہو گئے اور دونوں اپنے (بدن) پر جنت (کے درختوں) کے پتے چپکانے لگے اور آدم (علیہ السلام) سے اپنے رب کے حکم (کو سمجھنے) میں فروگذاشت ہوئی٭ سو وہ (جنت میں دائمی زندگی کی) مراد نہ پا سکے، ٭ (کہ ممانعت مخصوص ایک درخت کی تھی یا اس کی پوری نوع کی تھی، کیونکہ آپ علیہ السلام نے پھل اس مخصوص درخت کا نہیں کھایا تھا بلکہ اسی نوع کے دوسرے درخت سے کھایا تھا، یہ سمجھ کر کہ شاید ممانعت اسی ایک درخت کی تھی۔)
علامہ جوادی تو ان دونوں نے درخت سے کھالیا اور اور ان کے لئے ان کا آ گا پیچھا ظاہر ہوگیا اور وہ اسے جنتّ کے پتوں سے چھپانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کی نصیحت پر عمل نہ کیا تو راحت کے راستہ سے بے راہ ہوگئے
ایم جوناگڑھی چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا
حسین نجفی پس ان دونوں نے اس (درخت) میں سے کچھ کھایا۔ تو ان پر ان کے قابل ستر مقامات ظاہر ہوگئے اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار (کے امر ارشادی) کی خلاف ورزی کی اور (اپنے مقصد میں) ناکام ہوئے۔
=========================================
M.Daryabadi: Then the twain ate thereof; so there became disclosed to them their shame, and they began sewing upon them selves some of the leaves of the Garden, so Adam disobeyed his Lord, and erred,
M.M.Pickthall: Then they twain ate thereof, so that their shame became apparent unto them, and they began to hide by heaping on themselves some of the leaves of the Garden. And Adam disobeyed his Lord, so went astray.
Saheeh International: And Adam and his wife ate of it, and their private parts became apparent to them, and they began to fasten over themselves from the leaves of Paradise. And Adam disobeyed his Lord and erred.
Shakir: Then they both ate of it, so their evil inclinations became manifest to them, and they both began to cover themselves with leaves of the garden, and Adam disobeyed his Lord, so his life became evil (to him).
Yusuf Ali: In the result, they both ate of the tree, and so their nakedness appeared to them: they began to sew together, for their covering, leaves from the Garden: thus did Adam disobey his Lord, and allow himself to be seduced.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
آدم ؑ کے بارے میں