Chapter No 16-پارہ نمبر   ‹                    Mariam-19 سورت مریم  ›Ayah No-42 ایت نمبر
| اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْــٴًـا |
| آسان اُردو | جب اُس نے اپنے باپ سے کہا: اے میرے باپ! کیوں آپ اُن کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سن اور نہ دیکھ اور نہ ہی آپ کوکسی چیز کا فاہدہ دے سکتے ہیں؟ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ : ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، اور نہ آپ کا کوئی کام کرسکتی ہیں ؟ |
| ابو الاعلی مودودی | (انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ "ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟ |
| احمد رضا خان | جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے |
| احمد علی | جب اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو کیوں پوجتاہے ایسے کو جونہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرےکچھ کام آ سکے |
| فتح جالندھری | جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں |
| طاہر القادری | جب انہوں نے اپنے باپ (یعنی چچا آزر سے جس نے آپ کے والد تارخ کے انتقال کے بعد آپ کو پالا تھا) سے کہا: اے میرے باپ! تم ان (بتوں) کی پرستش کیوں کرتے ہو جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ تم سے کوئی (تکلیف دہ) چیز دور کرسکتے ہیں، |
| علامہ جوادی | جب انہوں نے اپنے پالنے والے باپ سے کہا کہ آپ ایسے کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ کچھ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے اور نہ کسی کام آنے والا ہے |
| ایم جوناگڑھی | جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا جان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائده پہنچا سکیں |
| حسین نجفی | جب انہوں نے اپنے (منہ بولے) باپ (حقیقی چچا) آذر سے کہا کہ اے باپ! آپ ان چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | Recall what time he said unto his father:, O my father! wherefore worshippest thou that which heareth not and seeth not, nor availeth thee at all? |
| M.M.Pickthall: | When he said unto his father: O my father! Why worshippest thou that which heareth not nor seeth, nor can in aught avail thee? |
| Saheeh International: | [Mention] when he said to his father, "O my father, why do you worship that which does not hear and does not see and will not benefit you at all? |
| Shakir: | When he said to his father; O my father! why do you worship what neither hears nor sees, nor does it avail you in the least: |
| Yusuf Ali: | Behold, he said to his father: "O my father! why worship that which heareth not and seeth not, and can profit thee nothing? |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
ابراہیم ؑ کے بارے میں
تاریخی اور علمی ایت