Chapter No 16-پارہ نمبر   ‹                    Mariam-19 سورت مریم  ›Ayah No-23 ایت نمبر
| فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا |
| آسان اُردو | پھر بچہ ہونے کا درد (دردِ زہ) اُس کو ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا. اُس نے کہا: ہاے افسوس! کاش میں اس سے پہلے ہی مر چکتی اور بھولی گذری ہو جاتی |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر زچگی کے درد نے انہیں ایک کھجور کے درخت کے پاس پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگیں : کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، اور مر کر بھولی بسری ہوجاتی۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھُجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی " کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا" |
| احمد رضا خان | پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی، |
| احمد علی | پھر اسے درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی |
| فتح جالندھری | پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی |
| طاہر القادری | پھر دردِ زہ انہیں ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، وہ (پریشانی کے عالم میں) کہنے لگیں: اے کاش! میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری ہوچکی ہوتی، |
| علامہ جوادی | پھر وضع حمل کا وقت انہیں ایک کھجور کی شاخ کے قریب لے آیا تو انہوں نے کہا کہ اے کاش میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بالکل فراموش کردینے کے قابل ہوگئی ہوتی |
| ایم جوناگڑھی | پھر درِد زه ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی |
| حسین نجفی | اس کے بعد دردِ زہ اسے کھجور کے درخت کے تنا کے پاس لے گیا (اور) کہا کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بالکل نسیاً منسیاً (بھول بسری) ہوگئی ہوتی۔ |
| M.Daryabadi: | Then the birth-pangs drave her to the trunk of a palm- tree; she said: would that had died afore this and become forgotten, lost in oblivion! |
| M.M.Pickthall: | And the pangs of childbirth drove her unto the trunk of the palm tree. She said: Oh, would that I had died ere this and had become a thing of naught, forgotten! |
| Saheeh International: | And the pains of childbirth drove her to the trunk of a palm tree. She said, "Oh, I wish I had died before this and was in oblivion, forgotten." |
| Shakir: | And the throes (of childbirth) compelled her to betake herself to the trunk of a palm tree. She said: Oh, would that I had died before this, and had been a thing quite forgotten! |
| Yusuf Ali: | And the pains of childbirth drove her to the trunk of a palm-tree: She cried (in her anguish): "Ah! would that I had died before this! would that I had been a thing forgotten and out of sight!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
مریم ؑ کے بارے میں
تاریخی اور علمی ایت
اندازہ کریں کہ معاشرے کا کتنا خوف یا اثر ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے