Chapter No 16-پارہ نمبر   ‹                    Mariam-19 سورت مریم  ›Ayah No-10 ایت نمبر
| قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا |
| آسان اُردو | اُس (زکریاؑ) نے کہا: میرے رب! میرے لیے ایک نشانی بنا دے. اُس نے کہا: تیری نشانی ہے کہ تُوصیح و سالم ہو کر بھی تین راتیں لوگوں سے بات نہیں کر سکے گا۔ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم صحت مند ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے" |
| احمد رضا خان | عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر |
| احمد علی | کہا اے میرے رب میرے لئےکوئی نشانی مقرر کر کہا تیری نشانی یہ ہے کہ توتین رات تک مسلسل لوگوں سے بات نہیں کر سکے گا |
| فتح جالندھری | کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے |
| طاہر القادری | (زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، ارشاد ہوا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات (دن) لوگوں سے کلام نہ کرسکوگے، |
| علامہ جوادی | انہوں نے کہا کہ پروردگار اس ولادت کی کوئی علامت قرار دے دے ارشاد ہوا کہ تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دنوں تک برابر لوگوں سے کلام نہیں کرو گے |
| ایم جوناگڑھی | کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے، ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا |
| حسین نجفی | زکریا (ع) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے لئے کوئی علامت قرار دے۔ ارشاد ہوا تمہارے لئے علامت یہ ہے کہ تم تندرست ہوتے ہوئے بھی برابر تین رات (دن) تک لوگوں سے بات نہیں کر سکوگے۔ |
| M.Daryabadi: | He said: my Lord appoint for me a sign. Allah said: thy sign is that thou shalt not speak unto mankind for three nights, while sound. |
| M.M.Pickthall: | He said: My Lord! Appoint for me some token. He said: Thy token is that thou, with no bodily defect, shalt not speak unto mankind three nights. |
| Saheeh International: | [Zechariah] said, "My Lord, make for me a sign." He said, "Your sign is that you will not speak to the people for three nights, [being] sound." |
| Shakir: | He said: My Lord! give me a sign. He said: Your sign is that you will not be able to speak to the people three nights while in sound health. |
| Yusuf Ali: | (Zakariya) said: "O my Lord! give me a Sign." "Thy Sign," was the answer, "Shall be that thou shalt speak to no man for three nights, although thou art not dumb." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
زکریا ؑ کے بارے میں
تاریخی اور علمی ایت