اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 15-پارہ نمبر                     The Cave-18 سورت الکھف  Ayah No-63 ایت نمبر

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ٘ وَ مَاۤ اَنْسٰنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا
آسان اُردو اُس (نوکر) نے کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے چٹان کی طرف پناہ لی تھی پھر بے شک میں مچھلی کو بھول گیا تھا۔۔ اور میں اُس کو نہ بھولتا ماسوائے کہ شیطان نے (ایسا کیا) کہ میں اس (مچھلی) کو یاد رکھتا۔۔ اور وہ (مچھلی) دریا میں اپنا راستہ پکڑ گئی، عجیب طرح سے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اس نے کہا : بھلا بتائیے ! (عجیب قصہ ہوگیا) جب ہم اس چٹان پر ٹھہرے تھے تو میں مچھلی (کا آپ سے ذکر کرنا) بھول گیا۔ اور شیطان کے سوا کوئی نہیں ہے جس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کرنا بھلا یا ہو، اور اس (مچھلی) نے تو بڑے عجیب طریقے پر دریا میں اپنی راہ لے لی تھی۔
ابو الاعلی مودودی خادم نے کہا "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی"
احمد رضا خان بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے تو سمندر میں اپنی راہ لی، اچنبھا ہے،
احمد علی کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھرے تومیں مچھلی کو وہیں بھول آیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلایا ہے کہ اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنی راہ سمندر میں عجیب طرح سے بنا لی
فتح جالندھری (اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
طاہر القادری (خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)،
علامہ جوادی اس جوان نے کہا کہ کیا آپ نے یہ دیکھا ہے کہ جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو میں نے مچھلی وہیں چھوڑ دی تھی اور شیطان نے اس کے ذکر کرنے سے بھی غافل کردیا تھا اور اس نے دریا میں عجیب طرح سے راستہ بنالیا تھا
ایم جوناگڑھی اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنالیا
حسین نجفی اس (جوان) نے کہا کیا آپ نے دیکھا تھا؟ کہ جب ہم اس چٹان کے پاس (سستانے کیلئے) ٹھہرے ہوئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا۔ اور شیطان نے مجھے ایسا غافل کیا کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کرنا بھی بھول گیا اور اس نے عجیب طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔
=========================================
M.Daryabadi: He said: lookest thou! when we betook ourselves to the rock, then forgot the fish; and naught but the Satan made me forget to mention it, and it took its way into the sea--a marvel!
M.M.Pickthall: He said: Didst thou see, when we took refuge on the rock, and I forgot the fish-- and none but Satan caused me to forget to mention it,--- it took its way into the waters by a marvel.
Saheeh International: He said, "Did you see when we retired to the rock? Indeed, I forgot [there] the fish. And none made me forget it except Satan - that I should mention it. And it took its course into the sea amazingly".
Shakir: He said: Did you see when we took refuge on the rock then I forgot the fish, and nothing made me forget to speak of it but the Shaitan, and it took its way into the river; what a wonder!
Yusuf Ali: He replied: "Sawest thou (what happened) when we betook ourselves to the rock? I did indeed forget (about) the Fish: none but Satan made me forget to tell (you) about it: it took its course through the sea in a marvellous way!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
موسی ؑ اور ان کے نوکر کے سفر کے بارے میں
تاریخی ایت