اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 15-پارہ نمبر                     The Cave-18 سورت الکھف  Ayah No-42 ایت نمبر

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا
آسان اُردو اور اُسکا پھل گھیر لیا(تباہ کر دیا)گیا.پھر وہ اپنے ہاتھوں کوملنے لگا اُس پر جو اُس نے اُس(باغ) پر خرچ کیا تھا،اور وہ (باغ) اپنی ٹہنیوں پر گرا پڑا ہواتھا، اور اُس نے کہا: اے میرا افسوس! اپنے رب سے کسی کا بھی شرک نہ کرتا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور (پھر ہوا یہ کہ) اس کی ساری دولت عذاب کے گھیرے میں آگئی، اور صبح ہوئی تو اس حالت میں کہ اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا، جبکہ اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا، اور وہ کہہ رہا تھا : کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانا ہوتا۔
ابو الاعلی مودودی آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ "کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا"
احمد رضا خان اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،
احمد علی اور اس کا پھل سمیٹ لیا گیا پھر وہ اپنے ہاتھ ہی ملتا رہ گیا اس پر جو اس نے اس باغ میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا اور کہا کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
فتح جالندھری اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا
طاہر القادری اور (اس تکبّر کے باعث) اس کے (سارے) پھل (تباہی میں) گھیر لئے گئے تو صبح کو وہ اس پونجی پر جو اس نے اس (باغ کے لگانے) میں خرچ کی تھی کفِ افسوس ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا اور وہ (سراپا حسرت و یاس بن کر) کہہ رہا تھا: ہائے کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا (اور اپنے اوپر گھمنڈ نہ کیا ہوتا)،
علامہ جوادی اور پھر اس کے باغ کے پھل آفت میں گھیر دیئے گئے تو وہ ان اخراجات پر ہاتھ ملنے لگا جو اس نے باغ کی تیاری پر صرف کئے تھے جب کہ باغ اپنی شاخوں کے بل اُلٹا پڑا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے کاش میں کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بناتا
ایم جوناگڑھی اور اس کے (سارے) پھل گھیر لئے گئے، پس وه اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا اپنے ہاتھ ملنے لگا اور وه باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وه شخص) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا
حسین نجفی (چنانچہ) اس کے پھلوں کو گھیرے میں لے لیا گیا (ان پر آفت آگئی) تو اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر کفِ افسوس ملتا تھا اور وہ (باغ) اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا۔ اور وہ کہتا تھا کہ اے کاش کہ میں نے کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بنایا ہوتا۔
=========================================
M.Daryabadi: And his property was encompassed; and lo! he was wringing the palms of his hands over that which he had expended thereon, while itlay fallen down on its trellises, and saying: Oh, would that had not associated with my Lord anyone:
M.M.Pickthall: And his fruit was beset (with destruction). Then began he to wring his hands for all that he had spent upon it, when (now) it was all ruined on its trellises, and to say: Would that I had ascribed no partner to my Lord!
Saheeh International: And his fruits were encompassed [by ruin], so he began to turn his hands about [in dismay] over what he had spent on it, while it had collapsed upon its trellises, and said, "Oh, I wish I had not associated with my Lord anyone."
Shakir: And his wealth was destroyed; so he began to wring his hands for what he had spent on it, while it lay, having fallen down upon its roofs, and he said: Ah me! would that I had not associated anyone with my Lord.
Yusuf Ali: So his fruits (and enjoyment) were encompassed (with ruin), and he remained twisting and turning his hands over what he had spent on his property, which had (now) tumbled to pieces to its very foundations, and he could only say, "Woe is me! Would I had never ascribed partners to my Lord and Cherisher!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
دو باغات کی مثال
شرک کرنے سے کاروبار تباہ برباد