Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹                  The Cave-18 سورت الکھف  ›Ayah No-22 ایت نمبر
| سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ |
| آسان اُردو | (کچھ) کہیں گے: تین (شخص)تھے اُن کا کتا اُن کا چوتھا تھا، اور (کچھ) غیب کے نشانوں سے کہتے ہیں: پانچ تھے اُن کا کتا اُن کاچھٹا؛ اور (کچھ) کہتے ہیں، سات تھے اور اُن کا کتا اُن کاآٹھواں تھا. (آپؐ) کہیں: میرا رب ہی اُن کی تعداد سے باخبر ہے. کوئی (شخص) اُن کو نہیں جانتا ماسوائے کم(لوگوں) کے. چنانچہ آپؐ اُن کے بارے میں لمبی بات نہ کریں ماسوائے سرسری بات کے، اور نہ ہی آپؐ اُن (لوگوں) میں سے کسی سے اُن (غار کے لوگوں)کے بارے میں رائے (تحقیق) مانگیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے، اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے، اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب اٹکل کے تیر چلانے کی باتیں ہیں۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے، اور آٹھواں ان کا کتا تھا، کہہ دو کہ : میرا رب ہی ان کی صحیح تعداد کو جانتا ہے۔ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی کو ان کا پورا علم نہیں۔ لہذا ان کے بارے میں سرسری گفتگو سے آگے بڑھ کر کوئی بحث نہ کرو، اور نہ ان کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ کرو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو |
| احمد رضا خان | اب کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بے دیکھے الاؤتکا (تیر تکا) بات اور کچھ کہیں گے سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی |
| احمد علی | بعض کہیں گے تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعض اٹکل پچو سے کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے اور بعض کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے کہہ دو ان کی گنتی میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کا اصلی حال تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں سو تو ان کے بارے میں سرسری گفتگو کے سوا جھگڑا نہ کرو ان میں سے کسی سےبھی انکا حال دریافت نہ کر |
| فتح جالندھری | (بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا |
| طاہر القادری | (اب) کچھ لوگ کہیں گے: (اصحابِ کہف) تین تھے ان میں سے چوتھا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے: پانچ تھے ان میں سے چھٹا ان کا کتا تھا، یہ بِن دیکھے اندازے ہیں، اور بعض کہیں گے: (وہ) سات تھے اور ان میں سے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ فرما دیجئے: میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے اور سوائے چند لوگوں کے ان (کی صحیح تعداد) کا علم کسی کو نہیں، سو آپ کسی سے ان کے بارے میں بحث نہ کیا کریں سوائے اس قدر وضاحت کے جو ظاہر ہو چکی ہے اور نہ ان میں سے کسی سے ان (اصحابِ کہف) کے بارے میں کچھ دریافت کریں، |
| علامہ جوادی | عنقریب یہ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتاّ تھا اور بعض کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ سب صرف غیبی اندازے ہوں گے اور بعض تو یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا-آپ کہہ دیجئے کہ خدا ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے اورچند افراد کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے لہذا آپ ان سے ظاہری گفتگو کے علاوہ واقعا کوئی بحث نہ کریں اور ان کے بارے میں کسی سے دریافت بھی نہ کریں |
| ایم جوناگڑھی | کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، غیب کی باتوں میں اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں، کچھ کہیں گے کہ وه سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ پس آپ ان کے مقدمے میں صرف سرسری گفتگو کریں اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں |
| حسین نجفی | عنقریب کچھ لوگ کہہ دیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ کہہ دیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ اور بہت کم لوگوں کو ان کا علم ہے۔ سو ان کے بارے میں سوائے سرسری گفتگو کے لوگوں سے زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں۔ |
| M.Daryabadi: | Anon they will say: they were three the fourth of them their dog. And they will say: they were five, the sixth of them their dog- -guessing at the unknown --and they willl say: they were seven, the eighth of them their dog. Say thou: my Lord is the Best Knower of their number; there knew them only a few; so debate thou not regarding them except an cut ward debating, and ask not regarding them anyone of them. |
| M.M.Pickthall: | (Some) will say: They were three, their dog the fourth, and (some) say: Five, their dog the sixth, guessing at random; and (some) say: Seven, and their dog the eighth. Say (O Muhammad): My Lord is best aware of their number. None knoweth them save a few. So contend not concerning them except with an outward contending, and ask not any of them to pronounce concerning them. |
| Saheeh International: | They will say there were three, the fourth of them being their dog; and they will say there were five, the sixth of them being their dog - guessing at the unseen; and they will say there were seven, and the eighth of them was their dog. Say, [O Muhammad], "My Lord is most knowing of their number. None knows them except a few. So do not argue about them except with an obvious argument and do not inquire about them among [the speculators] from anyone." |
| Shakir: | (Some) say: (They are) three, the fourth of them being their dog; and (others) say: Five, the sixth of them being their dog, making conjectures at what is unknown; and (others yet) say: Seven, and the eighth of them is their dog. Say: My Lord best knows their number, none knows them but a few; therefore contend not in the matter of them but with an outward contention, and do not question concerning them any of them. |
| Yusuf Ali: | (Some) say they were three, the dog being the fourth among them; (others) say they were five, the dog being the sixth,- doubtfully guessing at the unknown; (yet others) say they were seven, the dog being the eighth. Say thou: "My Lord knoweth best their number; It is but few that know their (real case)." Enter not, therefore, into controversies concerning them, except on a matter that is clear, nor consult any of them about (the affair of) the Sleepers. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
اصحاب الکہف اور اصحاب الرقیم
تاریخی ایت: ایک ایسی آیت جس میں گذشتہ دور میں ہونے والے واقعات ہوتے ہیں