اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 14-پارہ نمبر              The Bee-16 سورت النحل         Ayah No-75 ایت نمبر

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
آسان اُردو اللہ ایک مثال دیتاہے: ایک غلام، دوسرے کی ملکیت، کسی چیز پر اُس کی طاقت (اختیار)نہیں اور(دوسرا انسان)جس کو ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہو پھر وہ اس (رزق) سے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتا ہو. کیا وہ (دونوں) برابر ہیں؟ تعریف اللہ کے لیے ہی ہے! نہیں اُن(لوگوں) میں سے اکثر(یہ حقیقت) نہیں جانتے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔
ابو الاعلی مودودی اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے
احمد رضا خان اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر کیا وہ برابر ہوجائیں گے سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں
احمد علی الله ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام ہے کسی دوسرے کی ملک میں جو کسی چیز کا اختیارنہیں رکھتا اور ایک دوسرا آدمی ہے جسے ہم نے اچھی روزی دے رکھی ہے اور وہ ظاہر اور پوشیدہ اسے خرچ کرتا ہے کیا دونوں برابر ہیں سب تعریف الله کے لیے ہے مگر اکثر ان میں سے نہیں جانتے
فتح جالندھری خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے
طاہر القادری اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (کہ) ایک غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے (خود) کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (دوسرا) وہ شخص ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے عمدہ روزی عطا فرمائی ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (بنیادی حقیقت کو بھی) نہیں جانتے،
علامہ جوادی اللہ نے خود اس غلام مملوک کی مثال بیان کی ہے جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ہے اور اس آزاد انسان کی مثال بیان کی ہے جسے ہم نے بہترین رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے خفیہ اور علانیہ انفاق کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ساری تعریف صرف اللہ کے لئے ہی ہے مگر ان لوگوں کی اکثریت کچھ نہیں جانتی ہے
ایم جوناگڑھی اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے وه چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے
حسین نجفی اللہ ایک مثال پیش کرتا ہے کہ ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور ایک دوسرا ہے جسے ہم نے بہترین رزق عطا کر رکھا ہے اور وہ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ طور پر خرچ بھی کرتا ہے کیا وہ سب برابر ہو سکتے ہیں؟ الحمد ﷲ (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں) مگر اکثر لوگ (اتنی سیدھی بات بھی) نہیں جانتے۔
=========================================
M.Daryabadi: Allah propoundeth a similitude: there is a bondman enslaved who hath not power over aught; and there is one whom We have provided from Ourselves with goodly provision and he expendeth thereof secretly and openly; can they be equal? All praise Unto Allah; but most of them know not.
M.M.Pickthall: Allah coineth a similitude: (on the one hand) a (mere) chattel slave, who hath control of nothing, and (on the other hand) one on whom we have bestowed a fair provision from Us, and he spendeth thereof secretly and openly. Are they equal? Praise be to Allah! But most of them know not.
Saheeh International: Allah presents an example: a slave [who is] owned and unable to do a thing and he to whom We have provided from Us good provision, so he spends from it secretly and publicly. Can they be equal? Praise to Allah! But most of them do not know.
Shakir: Allah sets forth a parable: (consider) a slave, the property of another, (who) has no power over anything, and one whom We have granted from Ourselves a goodly sustenance so he spends from it secretly and openly; are the two alike? (All) praise is due to Allah! Nay, most of them do not know.
Yusuf Ali: Allah sets forth the Parable (of two men: one) a slave under the dominion of another; He has no power of any sort; and (the other) a man on whom We have bestowed goodly favours from Ourselves, and he spends thereof (freely), privately and publicly: are the two equal? (By no means;) praise be to Allah. But most of them understand not.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
عبد مملوک وہ بندہ جس کے پاس کوئی رزق نہیں ہوتا یعنی مسکین اور غریب ہوتا ہے دوسروں پر انحصار کرتا ہے
اللہ یہ مثال دیکر لوگوں کو واضح کرتا ہے کہ پھر تم اللہ کے برابری کرنے والے کیسے بنا لیتے ہو