Chapter No 14-پارہ نمبر    ‹           The Bee-16 سورت النحل         ›Ayah No-28 ایت نمبر
| الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ |
| آسان اُردو | (یہ کافر)وہ (لوگ)ہیں اُن کو فرشتے فوت کرتے ہیں تووہ اپنے پر ظلم (یعنی نافرمانی)کر رہے ہوتے ہیں. پھر وہ (کافر) فرمانبردار ی دیں گے (اور کہیں گے کہ) ہم تو کوئی بُرائی نہیں کیاکرتے تھے. نہیں! بے شک اللہ تو جانتا ہے اُس بارے میں جوتم کیا کرتے تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | جن کی روحیں فرشتوں نے اس حالت میں قبض کیں جب انہوں نے اپنی جانوں پر (کفر کی وجہ سے) ظلم کر رکھا تھا۔ اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ (ان سے کہا جائے گا) کیسے نہیں کرتے تھے ؟ اللہ کو سب معلوم ہے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں "ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے" ملائکہ جواب دیتے ہیں "کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے |
| احمد رضا خان | وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے اب صلح ڈالیں گے کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے |
| احمد علی | یہ وہ لوگ ہیں کہ فرشتوں نے ان کی ایسی حالت میں روح نکالی تھی کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے پھر وہ صلح کا پیغام بھیجیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہ کرتے تھے کیوں نہیں بے شک الله کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے |
| فتح جالندھری | (ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے |
| طاہر القادری | جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر (بدستور) ظلم کئے جا رہے ہوں، سو وہ (روزِ قیامت) اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کریں گے (اور کہیں گے:) ہم (دنیا میں) کوئی برائی نہیں کیا کرتے تھے، کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے، |
| علامہ جوادی | جنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کے ظالم ہوتے ہیں تو اس وقت اطاعت کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے. بیشک خدا خوب جانتا ہے کہ تم کیا کیا کرتے تھے |
| ایم جوناگڑھی | وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے |
| حسین نجفی | کہ جن کی روحیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے اس وقت انہوں نے (سپر ڈال دی تھی اور) صلح کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے (ان سے کہا گیا) ہاں (تم نے ضرور برائی کی تھی) تم لوگ جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Those whom the angels cause to die while they are wronging them selves, and then they proffer submission: we have not been working any evil. Yea! verily Allah is the Knower of that which ye have been working. |
| M.M.Pickthall: | Whom the angels cause to die while they are wronging themselves. Then will they make full submission (saying): We used not to do any wrong. Nay! Surely Allah is Knower of what ye used to do. |
| Saheeh International: | The ones whom the angels take in death [while] wronging themselves, and [who] then offer submission, [saying], "We were not doing any evil." But, yes! Indeed, Allah is Knowing of what you used to do. |
| Shakir: | Those whom the angels cause to die while they are unjust to themselves. Then would they offer submission: We used not to do any evil. Aye! surely Allah knows what you did. |
| Yusuf Ali: | "(Namely) those whose lives the angels take in a state of wrong-doing to their own souls." Then would they offer submission (with the pretence), "We did no evil (knowingly)." (The angels will reply), "Nay, but verily Allah knoweth all that ye did; |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
کافرین کو جب فرشتے فوت کرتے ہیں
اپنے اپ پر ظلم کرنے کی تشریح کہ ہر وہ انسان جہ اللہ کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پھر اُسی حالت میں مر جاتا ہے
یہ کافرین جو پچھلی ایت سے ہیں