Chapter No 14-پارہ نمبر    ‹           The Bee-16 سورت النحل         ›Ayah No-103 ایت نمبر
| وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ |
| آسان اُردو | اور واقعی ہم جانتے ہیں کہ وہ (مشرک)کہتے ہیں: صرف ایک بشر (عام انسان) اُس کو یہ (قرآن) سکھاتا ہے. زبان اُس(شخص) کی جس کی طرف یہ(مشرک) اشارہ کرتے ہیں عجمی (نہ سمجھ میں آنے والی) ہے، اور یہ (قرآن) تو واضح عربی زبان ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور (اے پیغمبر) ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ (تمہارے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : ان کو تو ایک انسان سکھاتا پڑھاتا ہے۔ (حالانکہ) جس شخص کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس کی زبان عجمی ہے۔ اور یہ (قرآن کی زبان) صاف عربی زبان ہے |
| ابو الاعلی مودودی | ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے |
| احمد رضا خان | اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان |
| احمد علی | اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ جس کی طرف نسبت کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے |
| فتح جالندھری | اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے |
| طاہر القادری | اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں کہ انہیں یہ (قرآن) محض کوئی آدمی ہی سکھاتا ہے، جس شخص کی طرف وہ بات کو حق سے ہٹاتے ہوئے منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن واضح و روشن عربی زبان (میں) ہے، |
| علامہ جوادی | اور ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ مشرکین یہ کہتے ہیں کہ انہیں کوئی انسان اس قرآن کی تعلیم دے رہا ہے-حالانکہ جس کی طرف یہ نسبت دیتے ہیں وہ عجمی ہے اور یہ زبان عربی واضح و فصیح ہے |
| ایم جوناگڑھی | ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے۔ |
| حسین نجفی | اور بے شک ہم جانتے ہیں کہ وہ (قرآن کے بارے میں) کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبر) کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ نسبت دیتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ (قرآن) تو فصیح عربی زبان میں ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And assuredly We know that they say: it is only a human being who teachech him. The speech of him unto whom they incline is foreign while this is Arabic speech plain. |
| M.M.Pickthall: | And We know well that they say: Only a man teacheth him. The speech of him at whom they falsely hint is outlandish, and this is clear Arabic speech. |
| Saheeh International: | And We certainly know that they say, "It is only a human being who teaches the Prophet." The tongue of the one they refer to is foreign, and this Qur'an is [in] a clear Arabic language. |
| Shakir: | And certainly We know that they say: Only a mortal teaches him. The tongue of him whom they reproach is barbarous, and this is clear Arabic tongue. |
| Yusuf Ali: | We know indeed that they say, "It is a man that teaches him." The tongue of him they wickedly point to is notably foreign, while this is Arabic, pure and clear. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
تاریخی ایت۔
اللہ باری تعالی نے لوگوں کے قران پر اعتراضات کا جواب دیا۔