Chapter No 14-پارہ نمبر    ‹           Al-Hijr-15 سورت الحجر         ›Ayah No-33 ایت نمبر
| قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ |
| آسان اُردو | اُس (ابلیس) نے کہا: نہیں ہوں میں ہرگز(ایسا) کہ سجدہ کروں بشر کے لیے، اُس (بشر)کو تُو نےتبدیل کی گئی کھنکناتی پکائی ہوئی مٹی سے پیدا کیا. |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اس نے کہا : میں ایسا (گرا ہوا) نہیں ہوں کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اس نے کہا "میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے" |
| احمد رضا خان | بولا مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودار گارے سے تھی، |
| احمد علی | کہا میں ایسا نہ تھا کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے کی تھی پیدا کیا ہے |
| فتح جالندھری | (اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں |
| طاہر القادری | (ابلیس نے) کہا: میں ہر گز ایسا نہیں (ہو سکتا) کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے تخلیق کیا ہے، |
| علامہ جوادی | اس نے کہا کہ میں ایسے بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا جسے تو نے سیاہی مائل خشک مٹی سے پیدا کیا ہے |
| ایم جوناگڑھی | وه بوﻻ کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجده کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے |
| حسین نجفی | اس نے کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | He said it was not for me that should prostrate myself unto a human being whom Thou hast created from ringing clay of loam moulded. |
| M.M.Pickthall: | He said: I am not one to prostrate myself unto a mortal whom Thou hast created out of potter's clay of black mud altered! |
| Saheeh International: | He said, "Never would I prostrate to a human whom You created out of clay from an altered black mud." |
| Shakir: | He said: I am not such that I should make obeisance to a mortal whom Thou hast created of the essence of black mud fashioned in shape. |
| Yusuf Ali: | (Iblis) said: "I am not one to prostrate myself to man, whom Thou didst create from sounding clay, from mud moulded into shape." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
انسان کی تخلیق
علمی ایت: بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایت کا کچھ حصہ محکم یا متاشبہ ہو بھی یا نہیں بھی ہو سکتا۔
اللہ باری تعالی اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ
ابلیس کا سجدہ کرنے سے انکار