اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 13-پارہ نمبر              Abraham-14 سورت ابراہیم         Ayah No-50 ایت نمبر

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ
آسان اُردو اُن (نافرمانبرداروں)کے لباس گندھک سے ہوں گے اور آگ اُن کے چہروں کو ڈھانپ رہی ہو گی
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی ان کے قمیص تارکول کے ہوں گے، اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی ہوگی۔
ابو الاعلی مودودی تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے
احمد رضا خان ان کے کرُتے رال ہوں گے اور ان کے چہرے آ گ ڈھانپ لے گی
احمد علی کرتےان کے گندھک کے ہوں گے اوران کے چہرو ں پر آگ لپٹی ہو گی
فتح جالندھری ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی
طاہر القادری ان کے لباس گندھک (یا ایسے روغن) کے ہوں گے (جو آگ کو خوب بھڑکاتا ہے) اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی،
علامہ جوادی ان کے لباس قطران کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھانکے ہوئے ہوگی
ایم جوناگڑھی ان کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر بھی چڑھی ہوئی ہوگی
حسین نجفی ان کے کرتے تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی۔
=========================================
M.Daryabadi: Their trouser hell be of pitch, and the Fire shall cover their faces.
M.M.Pickthall: Their raiment of pitch, and the Fire covering their faces,
Saheeh International: Their garments of liquid pitch and their faces covered by the Fire.
Shakir: Their shirts made of pitch and the fire covering their faces
Yusuf Ali: Their garments of liquid pitch, and their faces covered with Fire;
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
علمی ایت: اگرچہ قران الہدی کی تمام کی تمام آیات ایک طرح سے علمی ہی ہیں لیکن یہ درجہ بندی ایک ایسی ایت کے لیے ہے جس میں کوئی حکم نہیں ہوتا یعنی ایسی ایت محکم نہیں ہوتی ہے اور کسی اور ایت سے متاشبہ ہو بھی سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی۔ بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔
قیامت کے دن