اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 13-پارہ نمبر              Joseph-12 سورت یوسف         Ayah No-75 ایت نمبر

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ
آسان اُردو اُنہوں نے کہا: اُس کی سزا یہ! کہ جس (شخص)کے تھیلے میں ( گلاس) پایا گیا،پھر وہی (شخص)اُس کی سزا( ہرجانہ) ہو گا اسطرح ہی ہم ظالمین (نافرمانبرداروں) کو سزا دیتے ہیں
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی انہوں نے کہا : اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے کجاوے میں سے وہ (پیالہ) مل جائے، وہ خود سزا میں دھر لیا جائے۔ جو لوگ ظلم کرتے ہیں، ہم ان کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں،
ابو الاعلی مودودی > اُنہوں نے کہا "اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے"
احمد رضا خان بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے
احمد علی انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کےاسباب میں سے پایا جائے پس وہی اس کے بدلہ میں جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں
فتح جالندھری انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
طاہر القادری > انہوں نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے وہ (پیالہ) برآمد ہو وہ خود ہی اس کا بدلہ ہے (یعنی اسی کو اس کے بدلہ میں رکھ لیا جائے)، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،
علامہ جوادی ان لوگوں نے کہا کہ اس کی سزا خود وہ شخص ہے جس کے سامان میں سے پیالہ برآمد ہو ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزادیتے ہیں
ایم جوناگڑھی جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے۔ ہم تو ایسے ﻇالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
حسین نجفی انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان سے مل جائے وہ خود ہی اس کی سزا ہے ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔
=========================================
M.Daryabadi: They said: his meed shall be that he, in whose pack it is found, shall himself be recompense thereof. Thus we reccmpense the wrong- doers.
M.M.Pickthall: They said: The penalty for it! He in whose bag (the cup) is found, he is the penalty for it. Thus we requite wrongdoers.
Saheeh International: [The brothers] said, "Its recompense is that he in whose bag it is found - he [himself] will be its recompense. Thus do we recompense the wrongdoers."
Shakir: They said: The requital of this is that the person in whose bag it is found shall himself be (held for) the satisfaction thereof; thus do we punish the wrongdoers.
Yusuf Ali: They said: "The penalty should be that he in whose saddle-bag it is found, should be held (as bondman) to atone for the (crime). Thus it is we punish the wrong-doers!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
یوسف ؑ کا قصہ
تاریخی ایت