Chapter No 12-پارہ نمبر    ‹             Hud-11 سورت ھود         ›Ayah No-27 ایت نمبر
| فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ |
| آسان اُردو | پھر کہا سرداروں نے جواُس کی قوم میں سے کفر کرتے تھے: (کہ)ہم تم کو(نوح) نہیں دیکھتے ماسوائے کہ (تم) ہماری طرح کے ایک عام آدمی (بشر) ہو، اور ہم نہیں دیکھتے تم کو(نوح) کہ تیری پیروی کرنے والے ہیں ماسوائے کہ وہ لوگ جو ہم میں سے ذلیل(کمتر، نیچ) ہیں ،ناقص رائے والے اور ہم تمہارے لیے اپنے پرکوئی فضلیت (بڑھائی) نہیں دیکھتے ہیں ، نہیں ! بلکہ ہم تمہیں جھوٹے خیال کرتے ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اس پر ان کی قوم کے وہ سردار لوگ جنہوں نے کفر اختیار کرلیا تھا، کہنے لگے کہ : ہمیں تو اس سے زیادہ (تم میں) کوئی بات نظر نہیں آرہی کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو، اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ صرف وہ لوگ تمہارے پیچھے لگے ہیں جو ہم میں سب سے زیادہ بےحیثیت ہیں، اور وہ بھی سطحی طور پر رائے قائم کرکے۔ اور ہمیں تم میں کوئی ایسی بات بھی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے ہم پر تمہیں کوئی فضیلت حاصل ہو، بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم سب جھوٹے ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | جواب میں اُس کی قوم کے سردار، جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے "ہماری نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں" |
| احمد رضا خان | تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں، |
| احمد علی | پھر اس کی قوم کے جو کافر سردار تھے وہ بولے ہمیں تو تم ہم جیسے ہی ایک آدمی نظر آتے ہو اور ہمیں تو تمہارے پیرو وہی نظر آتے ہیں جو ہم میں سے رذیل ہیں وہ بھی سرسری نظر سے اورہم تم میں اپنے سے کوئی فضیلت بھی نہیں پاتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں |
| فتح جالندھری | تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں |
| طاہر القادری | سو ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں، |
| علامہ جوادی | تو ان کی قوم کے بڑے لوگ جنہوں نے کفر اختیار کرلیا تھا -انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو اپنا ہی جیسا ایک انسان سمجھ رہے ہیں اور تمہارے اتباع کرنے والوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پست طبقہ کے سادہ لوح افراد ہیں. ہم تم میں اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں دیکھتے ہیں بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں)، ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں |
| حسین نجفی | اس پر ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ (اے نوح) ہم تو تمہیں اس کے سوا کچھ نہیں دیکھتے کہ تم ہم جیسے ایک انسان ہو۔ اور ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے آپ کی پیروی کی ہے وہ ہم میں سے بالکل رذیل لوگ ہیں اور انہوں نے بھی بے سوچے سمجھے سرسری رائے سے کی ہے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی برتری نہیں دیکھتے بلکہ تم لوگوں کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | The chiefs of those who disbelieved among his people said: we behold thee except as a human being like us, and we behold not any follow thee except the meanest of us, by an immature opinion; nor We behold in you any exellency over us; nay! we deem you liars. |
| M.M.Pickthall: | The chieftains of his folk, who disbelieved, said: We see thee but a mortal like us, and we see not that any follow thee save the most abject among us, without reflection. We behold in you no merit above us - nay, we deem you liars. |
| Saheeh International: | So the eminent among those who disbelieved from his people said, "We do not see you but as a man like ourselves, and we do not see you followed except by those who are the lowest of us [and] at first suggestion. And we do not see in you over us any merit; rather, we think you are liars." |
| Shakir: | But the chiefs of those who disbelieved from among his people said: We do not consider you but a mortal like ourselves, and we do not see any have followed you but those who are the meanest of us at first thought and we do not see in you any excellence over us; nay, we deem you liars. |
| Yusuf Ali: | But the chiefs of the Unbelievers among his people said: "We see (in) thee nothing but a man like ourselves: Nor do we see that any follow thee but the meanest among us, in judgment immature: Nor do we see in you (all) any merit above us: in fact we think ye are liars!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف ارسال کرنا
نوحؑ کا اپنی قوم کو پیغام
قوم کا جواب