اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 10-پارہ نمبر          The Repentance-9 سورت التوبۃ Ayah No-83 ایت نمبر

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ
آسان اُردو پھراگر اللہ آپؐ کواُن (منافقین) میں سے ایک جماعت کے پاس (اس جنگ سے) واپس لائے پھر وہ (منافق) آپؐ سے ( جنگ پر) نکلنے کی اجازت مانگیں ،تو پھر (آپؐ) کہیں: تم ہرگز اب کبھی بھی میرے ساتھ (جنگ پر) نہیں نکلو گے اور نہ ہی ہرگزمیرے ساتھ کسی دشمن سے لڑائی کرو گے بے شک تم پہلی دفعہ بیٹھے رہنے سے خوش تھے چنانچہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ ہی بیٹھو
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (اے پیغمبر) اس کے بعد اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے آئے، اور یہ (کسی اور جہاد میں) نکلنے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان سے کہہ دینا کہ : اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکو گے، اور میرے ساتھ ملکر کسی دشمن سے کبھی نہیں لڑ سکو گے۔ تم نے پہلی بار بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا، لہذا اب بھی انہی کے ساتھ بیٹھ رہو جن کو (کسی معذوری کی وجہ سے) پیچھے رہنا ہے۔
ابو الاعلی مودودی اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، "اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو، تم نے پہلے بیٹھ ر ہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو"
احمد رضا خان پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ
احمد علی سواگر تجھے الله ان میں سے کسی فرقہ کی طرف پھر لے جائے پھر تجھ سے نکلنے کی اجازت چاہیں تو کہہ دو کہ تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلو گے اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو گے تمہیں پہلی مرتبہ بیٹھنا پسند آیا سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
فتح جالندھری پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
طاہر القادری پس (اے حبیب!) اگر اللہ آپ کو (غزوۂ تبوک سے فارغ ہونے کے بعد) ان (منافقین) میں سے کسی گروہ کی طرف دوبارہ واپس لے جائے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور غزوہ کے موقع پر جہاد کے لئے) نکلنے کی اجازت چاہیں تو ان سے فرما دیجئے گا کہ (اب) تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلنا اور تم میرے ساتھ ہو کر کبھی بھی ہرگز دشمن سے جنگ نہ کرنا (کیونکہ) تم پہلی مرتبہ (جہاد چھوڑ کر) پیچھے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے تھے سو (اب بھی) پیچھے بیٹھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو،
علامہ جوادی اس کے بعد اگر خدا آپ کو ان کے کسی گروہ تک میدان سے واپس لائے اور یہ دوبارہ خروج کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجئے تم لوگ کبھی میرے ساتھ نہیں نکل سکتے اور کسی دشمن سے جہاد نہیں کرسکتے تم نے پہلے ہی بیٹھے رہنا پسند کیا تھا تو اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
ایم جوناگڑھی پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی کسی جماعت کی طرف لوٹا کر واپس لے آئے پھر یہ آپ سے میدان جنگ میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا پس تم پیچھے ره جانے والوں میں ہی بیٹھے رہو
حسین نجفی (اے نبی(ص)) اگر اللہ آپ کو واپس لائے ان کے کسی گروہ کی طرف۔ اور وہ آپ سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگے تو کہہ دیجیے کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے۔ اور میرے ہمراہ ہو کر کبھی دشمن سے جنگ نہیں کر سکتے تم نے پہلی بار (گھر میں) بیٹھ رہنا پسند کیا۔ تو اب بھی بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں (بچوں اور عورتوں) کے ساتھ۔
=========================================
M.Daryabadi: If, then, Allah bring thee back to a party of them, and they ask leave of thee for going forth, say thou: never ye shall go forth with me, nor ever fight an enemy with me; verily ye were pleased with sitting at home the first time, wherefore sit now with those who stay behind.
M.M.Pickthall: If Allah bring thee back (from the campaign) unto a party of them and they ask of thee leave to go out (to fight), then say unto them: Ye shall never more go out with me nor fight with me against a foe. Ye were content with sitting still the first time. So sit still, with the useless.
Saheeh International: If Allah should return you to a faction of them [after the expedition] and then they ask your permission to go out [to battle], say, "You will not go out with me, ever, and you will never fight with me an enemy. Indeed, you were satisfied with sitting [at home] the first time, so sit [now] with those who stay behind."
Shakir: Therefore if Allah brings you back to a party of them and then they ask your permission to go forth, say: By no means shall you ever go forth with me and by no means shall you fight an enemy with me; surely you chose to sit the first time, therefore sit (now) with those who remain behind.
Yusuf Ali: If, then, Allah bring thee back to any of them, and they ask thy permission to come out (with thee), say: "Never shall ye come out with me, nor fight an enemy with me: for ye preferred to sit inactive on the first occasion: Then sit ye (now) with those who lag behind."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
منافقین کے بارے میں
تاریخی ایت ہے
اور اس ایت میں مستقبل کی ہدایت دی جارہی ہے کہ کیا ہوگا۔
ایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ باری تعالی انسان کے مستقبل کے خیالات یا انسان کی پلاننگ جو وہ کرنا چاہتا ہے، جانتا ہے