اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 10-پارہ نمبر          The Repentance-9 سورت التوبۃ Ayah No-60 ایت نمبر

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ
آسان اُردو صدقات صرف (فقیروں) مانگنے والوں، مسکینوں(ضرورت مندوں، غریبوں) ،اور جو لوگ ان(صدقات ) پر کام کرنے والے ہیں(یعنی اُن کی مزدوری )، اور جن کے دلوں کو جوڑنا ہو(جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں اور مالی حالات کی وجہ سے ضرورت مند ہوں)، اور جو قید( غلامی)میں ہوں، اور قرض کے تلے دبے ہوئے لوگوں ، اور اللہ کی راہ میں(خرچ)،اور مسافروں کے لیے ہیں۔(صدقات کو اسطرح خرچ کرنا) اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے اور اللہ جاننے والا اور عقلمند ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
ابو الاعلی مودودی یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے
احمد رضا خان زکوٰة تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے
احمد علی زکوة مفلسوں اور محتاجوں اوراس کا کام کرنے والوں کا حق ہے اورجن کی دلجوئی کرنی ہے اور غلاموں کی گردن چھوڑانے میں اور قرض داروں کے قرض میں اور الله کی راہ میں اورمسافر کو یہ الله کی طرف سے مقرر کیاہوا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے
فتح جالندھری صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
طاہر القادری بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،
علامہ جوادی صدقات و خیرات بس فقرائ ,مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف هقلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی گردن کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے اور راسِ خدا میں غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے
ایم جوناگڑھی صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے
حسین نجفی صدقات (مالِ زکوٰۃ) تو اور کسی کے لئے نہیں صرف فقیروں کے لئے ہے مسکینوں کے لئے ہے اور ان کارکنوں کے لئے ہے جو اس کی وصولی کے لئے مقرر ہیں۔ اور ان کے لئے ہے جن کی (دلجوئی) مطلوب ہے۔ نیز (غلاموں اور کنیزوں کی) گردنیں (چھڑانے) کے لئے ہے اور مقروضوں (کا قرضہ ادا کرنے) کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہے اور مسافروں (کی مدد) کے لئے ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: The compulsory alms are only for the poor and the needy and the agents employed therein and those whose hearts are to be conciliated and those in bondage and debtors and for expenditure in the way of Allah and for the wayfarer: an ordinance from Allah: and Allah is Knowing, Wise.
M.M.Pickthall: The alms are only for the poor and the needy, and those who collect them, and those whose hearts are to be reconciled, and to free the captives and the debtors, and for the cause of Allah, and (for) the wayfarers; a duty imposed by Allah. Allah is knower, Wise.
Saheeh International: Zakah expenditures are only for the poor and for the needy and for those employed to collect [zakah] and for bringing hearts together [for Islam] and for freeing captives [or slaves] and for those in debt and for the cause of Allah and for the [stranded] traveler - an obligation [imposed] by Allah. And Allah is Knowing and Wise.
Shakir: Alms are only for the poor and the needy, and the officials (appointed) over them, and those whose hearts are made to incline (to truth) and the (ransoming of) captives and those in debts and in the way of Allah and the wayfarer; an ordinance from Allah; and Allah is knowing, Wise.
Yusuf Ali: Alms are for the poor and the needy, and those employed to administer the (funds); for those whose hearts have been (recently) reconciled (to Truth); for those in bondage and in debt; in the cause of Allah; and for the wayfarer: (thus is it) ordained by Allah, and Allah is full of knowledge and wisdom.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
منافقین کا صدقات کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کو الزام دینا
اگر منافقین اُسی پر راضی ہو جاتے جو اور جتنا اللہ اور اُس کا رسولﷺ ان کو صدقات میں سے دیتے تھے
پھر اللہ نے واضح اور محکم یہ ایت نازل کر دی کہ صدقات در حقیقت کن لوگوں کے لیے ہوتے ہیں