Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-50 ایت نمبر
| اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ |
| آسان اُردو | اگر آپؐ کو کوئی اچھائی ملتی ہے تو وہ ان (منافقین) کو بُری لگتی ہے، اور اگر آپؐ کو کوئی مصیبت لگتی ہے ، تو وہ کہتے ہیں: ہم نے تو اس سے پہلے ہی اپنے معاملات کو (درست)پکڑ لیا تھا اور وہ پھرجاتے ہیں اور وہ خوش ہوتے ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں کہ : ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا، اور (یہ کہہ کر) بڑے خوش خوش واپس جاتے ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا |
| احمد رضا خان | اگر تمہیں بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں، |
| احمد علی | اگر تمہیں آسائش حاصل ہوتی ہے تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی سنبھال لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں |
| فتح جالندھری | (اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں |
| طاہر القادری | اگر آپ کو کوئی بھلائی (یا آسائش) پہنچتی ہے (تو) وہ انہیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو مصیبت (یا تکلیف) پہنچتی ہے (تو) کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے کام (میں احتیاط) کو اختیار کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے ہوئے پلٹتے ہیں، |
| علامہ جوادی | ان کا حال یہ ہے کہ آپ تک نیکی آ تی ہے تو انہیں بفِی لگتی ہے اور کوئی مصیبت آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوش و خرم واپس چلے جاتے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو یہ کہتے ہیں ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے سے ہی درست کر لیا تھا، پھر تو بڑے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں |
| حسین نجفی | اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر آپ پر کوئی مصیبت آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا۔ اور وہ (یہ کہہ کر) خوش خوش واپس لوٹ جاتے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | If good befalleth thee, it annoyeth them, and if an affliction befalleth thee, they say; surely we took good hold of our affair before. And they turn away while they are exulting. |
| M.M.Pickthall: | If good befalleth thee (O Muhammad) it afflicteth them, and if calamity befalleth thee, they say: We took precaution, and they turn away well pleased. |
| Saheeh International: | If good befalls you, it distresses them; but if disaster strikes you, they say, "We took our matter [in hand] before," and turn away while they are rejoicing. |
| Shakir: | If good befalls you, it grieves them, and if hardship afflicts you, they say: Indeed we had taken care of our affair before; and they turn back and are glad. |
| Yusuf Ali: | If good befalls thee, it grieves them; but if a misfortune befalls thee, they say, "We took indeed our precautions beforehand," and they turn away rejoicing. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
نبی اکرمﷺ کی زندگی میں مسلمانوں کا فی سبیل اللہ جہاد نہ کرنا
تاریخی ایت ہے
مسلمانوں کے حیلے بہانے