Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-46 ایت نمبر
| وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ |
| آسان اُردو | اور اگر( واقعی) وہ (منافقین جہاد پر) نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے کچھ سازوسامان ضرور تیار کر لیتے، لیکن اللہ کو اُن(منافقین) کا جاناپسند نہ تھاپھر اس نے اُن کوروکے رکھا اور (اُن سے یہ )کہا : کہ تم (اب گھروں میں) بیٹھنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھو |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اگر ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو اس کے لیے انہوں نے کچھ نہ کچھ تیاری کی ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا پسند ہی نہیں کیا، اس لیے انہیں سست پڑا رہنے دیا، اور کہہ دیا گیا کہ جو (اپاہج ہونے کی وجہ سے) بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسندہی نہ تھا، اس لیے اس نے انہیں سست کر دیا اور کہہ دیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ |
| احمد رضا خان | انہیں نکلنا منظور ہوتا تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا پسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والے کے ساتھ |
| احمد علی | اور اگر وہ نکلنا چاہتے تو اس کے لیے کوئی سامان ضرور تیار کرتے لیکن الله نے ان کا اٹھنا پسند نہ کیا سو انہیں روک دیا اور حکم ہوا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو |
| فتح جالندھری | اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے ان کا اُٹھنا (اور نکلنا) پسند نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے ہی نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو |
| طاہر القادری | اگر انہوں نے (واقعی جہاد کے لئے) نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو وہ اس کے لئے (کچھ نہ کچھ) سامان تو ضرور مہیا کر لیتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ان کے کذب و منافقت کے باعث) اللہ نے ان کا (جہاد کے لئے) کھڑے ہونا (ہی) ناپسند فرمایا سو اس نے انہیں (وہیں) روک دیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم (جہاد سے جی چرا کر) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو، |
| علامہ جوادی | یہ اگر نکلنا چاہتے تو اس کے لئے سامان تیار کرتے لیکن خد اہی کو ان کا نکلنا پسند نہیں ہے اس لئے اس نے ان کے ارادوں کو کمزور رہنے دیا اور ان سے کہا گیا کہ اب تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو |
| ایم جوناگڑھی | یہ اگر نکلنا چاہتے تو اس کے لئے سامان تیار کرتے لیکن خد اہی کو ان کا نکلنا پسند نہیں ہے اس لئے اس نے ان کے ارادوں کو کمزور رہنے دیا اور ان سے کہا گیا کہ اب تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو |
| حسین نجفی | اگر ان لوگوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سروسامان کی تیاری ضرور کرتے لیکن (حقیقت الامر تو یہ ہے کہ) اللہ کو ان کا اٹھنا اور نکالنا ناپسند تھا۔ اس لئے اس نے ان کو کاہل (اور سست) کر دیا۔ اور (گویا ان سے) کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ |
| M.Daryabadi: | And had they intended the going forth, they would have made some preparation therefor; But Allah was averse to their wending, wherefore He withheld them, and the word was passed: stay of home with the stay-at-homes. |
| M.M.Pickthall: | And if they had wished to go forth they would assuredly have made ready some equipment, but Allah was averse to their being sent forth and held them back and it was said (unto them): Sit ye with the sedentary! |
| Saheeh International: | And if they had intended to go forth, they would have prepared for it [some] preparation. But Allah disliked their being sent, so He kept them back, and they were told, "Remain [behind] with those who remain." |
| Shakir: | And if they had intended to go forth, they would certainly have provided equipment for it, but Allah did not like their going forth, so He withheld them, and it was said (to them): Hold back with those who hold back. |
| Yusuf Ali: | If they had intended to come out, they would certainly have made some preparation therefor; but Allah was averse to their being sent forth; so He made them lag behind, and they were told, "Sit ye among those who sit (inactive)." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
نبی اکرمﷺ کی زندگی میں مسلمانوں کا فی سبیل اللہ جہاد نہ کرنا
تاریخی ایت ہے
مسلمانوں کے حیلے بہانے