Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-17 ایت نمبر
| مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ |
| آسان اُردو | مشرکین کے لیے( جائز) نہیں کہ وہ اپنی جانوں پر (خود) کفر کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کی مساجد کو آباد کریں یہی( لوگ )ہیں، اُنکے اعمال ضائع ہیں اور آگ میں وہ ہمیشہ رہیں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | مشرکین اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، حالانکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ بنے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے تو اعمال ہی غارت ہوچکے ہیں، اور دوزخ ہی میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے |
| احمد رضا خان | مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں خود اپنے کفر کی گواہی دے کر ان کا تو سب کیا دھرا اِکا رت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے |
| احمد علی | مشرکوں کا کام نہیں کہ الله کی مسجدیں آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں ان لوگوں کے سب اعمال بے کار ہیں اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے |
| فتح جالندھری | مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے |
| طاہر القادری | مشرکوں کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں درآنحالیکہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے تمام اعمال باطل ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہنے والے ہیں، |
| علامہ جوادی | یہ کام مشرکین کا نہیں ہے کہ وہ مساجد خدا کو آباد کریں جب کہ وہ خود اپنے نفس کے کفر کے گواہ ہیں -ان کے اعمال برباد ہیں اور وہ جہّنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | ﻻئق نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ درآں حالیکہ وه خود اپنے کفر کے آپ ہی گواه ہیں، ان کے اعمال غارت واکارت ہیں، اور وه دائمی طور پر جہنمی ہیں |
| حسین نجفی | اور مشرکین کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ مسجدوں کو آباد کریں جبکہ وہ خود اپنے اوپر اپنے کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور وہ ہمیشہ آتشِ دوزخ میں رہیں گے۔ |
| M.Daryabadi: | It is not for the associators that they shall tend Allah's mosques, while giving evidence of infidelity against themselves. Those! vain shall be their works, and in the Fire they shall be abiders. |
| M.M.Pickthall: | It is not for the idolaters to tend Allah's sanctuaries, bearing witness against themselves of disbelief. As for such, their works are vain and in the Fire they will abide. |
| Saheeh International: | It is not for the polytheists to maintain the mosques of Allah [while] witnessing against themselves with disbelief. [For] those, their deeds have become worthless, and in the Fire they will abide eternally. |
| Shakir: | The idolaters have no right to visit the mosques of Allah while bearing witness to unbelief against themselves, these it is whose doings are null, and in the fire shall they abide. |
| Yusuf Ali: | It is not for such as join gods with Allah, to visit or maintain the mosques of Allah while they witness against their own souls to infidelity. The works of such bear no fruit: In Fire shall they dwell. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
مساجد کی دیکھ بھال اور اُن کو آبار کرنے کے بارے میں احکامات
واضح اور محکم ایت
مشرکین کا مساجد سے کوئی تعلق نہیں