اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 11-پارہ نمبر          The Repentance-9 سورت التوبۃ Ayah No-114 ایت نمبر

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ
آسان اُردو اور ابراہیم ؑ کا معافی مانگنا اپنے والد کے لیے نہیں تھاماسوائے ایک وعدہ سے جو اُس (حضرت ابراہیم ؑ) نے اُس (اپنے والد) سے کیا تھا، پھر جب اُس ( ابراہیم ؑ) کو واضح ہو گیا کہ وہ (اُن کا والد) اللہ کا دشمن ہے تو وہ ( ابراہیم ؑ) اُس سے بری الذمہ (الگ، لا تعلق) ہو گیا بے شک! ابراہیم ؑ ایک نرم دل (اور) دردمند ( احساس رکھنے والا) تھا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو مغفرت کی دعا مانگی تھی، اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ انہوں نے اس (باپ) سے ایک وعدہ کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، تو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے، بڑے بردبار تھے۔
ابو الاعلی مودودی ابراہیمؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا، حق یہ ہے کہ ابراہیمؑ بڑا رقیق القلب و خداترس اور بردبار آدمی تھا
احمد رضا خان اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہوگیا) بیشک ابراہیم بہت آہیں کرنے والا متحمل ہے،
احمد علی اور ابراھیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا اور ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ الله کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے بے شک ابراھیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے
فتح جالندھری اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے
طاہر القادری اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ (یعنی چچا آزر، جس نے آپ کو پالا تھا) کے لئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وعدہ کی غرض سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے زار ہوگئے (اس سے لاتعلق ہوگئے اور پھر کبھی اس کے حق میں دعا نہ کی)۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے دردمند (گریہ و زاری کرنے والے اور) نہایت بردبار تھے،
علامہ جوادی اور ابراہیم کا استغفار ان کے باپ کے لئے صرف اس وعدہ کی بنا پر تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا اس کے بعد جب یہ واضح ہوگیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو اس سے بربَت اور بیزاری بھی کرلی کہ ابراہیم بہت زیادہ تضرع کرنے والے اور اِردبار تھے
ایم جوناگڑھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وه صرف وعده کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعده کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ﻇاہر ہوگئی کہ وه اللہ کا دشمن ہے تو وه اس سے محض بے تعلق ہوگئے، واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور برد بار تھے
حسین نجفی اور ابراہیم نے جو اپنے باپ (تایا) کے لیے دعائے مغفرت کی تھی تو وہ ایک وعدہ کی بنا پر تھی جو وہ کر چکے تھے۔ مگر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بیزار ہوگئے بے شک جناب ابراہیم بڑے ہی دردمند اور غمخوار و بردبار انسان تھے۔
=========================================
M.Daryabadi: And Ibrahim's asking for the forgiveness of his father was only in pursuance of a promise which he had made unto him. Then, when it became manifest unto him that he was an enemy of Allah, he declared himself quit of him. Verily Ibrahim was long-suffering, forbearing.
M.M.Pickthall: The prayer of Abraham for the forgiveness of his father was only because of a promise he had promised him, but when it had become clear unto him that he (his father) was an enemy to Allah he (Abraham) disowned him. Lo! Abraham was soft of heart, long-suffering.
Saheeh International: And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became apparent to Abraham that his father was an enemy to Allah, he disassociated himself from him. Indeed was Abraham compassionate and patient.
Shakir: And Ibrahim asking forgiveness for his sire was only owing to a promise which he had made to him; but when it became clear to him that he was an enemy of Allah, he declared himself to be clear of him; most surely Ibrahim was very tender-hearted forbearing.
Yusuf Ali: And Abraham prayed for his father's forgiveness only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him: for Abraham was most tender-hearted, forbearing.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط


ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت ہے
ابراہیم ؑ کی اپنے دعا کے بارے میں