Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Spoils of War-8 سورت الانفال ›Ayah No-42 ایت نمبر
| اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ |
| آسان اُردو | جب تم(مسلمان ، وادی کے) نزدیکی کنارے پر تھے اور وہ(کافرین) دور کنارے پر تھے، اور (تجارتی) قافلہ تم سے نیچے (یعنی نشیبی صاف زمین پر) تھا اور اگر تم (آپس میں) عہد کرتے تو واقعی تم عہد میں اختلاف کرتے لیکن(یہ سب کچھ اس لیے ہوا ) تاکہ اللہ پورا کر دے ایک حکم جو کہ( ہر صورت میں) پورا ہونا تھا، تاکہ ہلاک ہو جس نے (اُس دن) ہلاک ہونا ہے،(اللہ کی طاقت کے) ایک واضح ثبوت سے ، اور زندہ رہے جس نے زندہ رہنا ہے ایک واضح ثبوت سے بے شک! اللہ، واقعی سننے جاننے والا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے اور وہ لوگ دور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔ اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کیے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لیے ہوا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے، اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے |
| احمد رضا خان | جب تم نالے کے کنا رے تھے اور کافر پرلے کنا رے اور قا فلہ تم سے ترائی میں اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے، |
| احمد علی | جس وقت تم درلے کنارے پر تھے اور وہ پرلےکنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے اتر گیا تھا اور اگرتم آپس میں وعدہ کرتے تو ایک ساتھ وعدہ پر نہ پہنچتے لیکن الله کو ایک کام کرنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ اتمام حجت کے بعد زندہ رہے اور بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے |
| فتح جالندھری | جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے |
| طاہر القادری | جب تم (مدینہ کی جانب) وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ (کفّار دوسری جانب) دور والے کنارے پر تھے اور (تجارتی) قافلہ تم سے نیچے تھا، اور اگر تم آپس میں (جنگ کے لئے) کوئی وعدہ کر لیتے تو ضرور (اپنے) وعدہ سے مختلف (وقتوں میں) پہنچتے لیکن (اللہ نے تمہیں بغیر وعدہ ایک ہی وقت پر جمع فرما دیا) یہ اس لئے (ہوا) کہ اللہ اس کام کو پورا فرما دے جو ہو کر رہنے والا تھا تاکہ جس شخص کو مرنا ہے وہ حجت (تمام ہونے) سے مرے اور جسے جینا ہے وہ حجت (تمام ہونے) سے جئے (یعنی ہر کسی کے سامنے اسلام اور رسول برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر حجت قائم ہو جائے)، اور بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے، |
| علامہ جوادی | جب کہ تم وادی کے قریبی محاذ پر تھے اور وہ لوگ دور والے محاذ پر تھے اور قافلہ تم سے نشیب میں تھا اور اگر تم پہلے سے جہاد کے وعدہ پر نکلتے تو یقینا اس کے خلاف کرتے لیکن خدا ہونے والے امر کا فیصلہ کرنا چاہتا تھا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل کے ساتھ اور اللہ سب کی سننے والا اور سب کے حال هدل کا جاننے والا ہے |
| ایم جوناگڑھی | جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے |
| حسین نجفی | جس وقت تم قریب کے ناکہ پر تھے اور وہ دور کے ناکہ پر اور قافلہ تم سے ادھر نیچے (ساحل سمندر پر) تھا اگر تم ایک دوسرے سے وقت مقرر بھی کر لیتے تو بھی تم میں اختلاف ہو جاتا۔ لیکن خدا نے تو اس بات کو پورا کرنا تھا جو (مڈبھیڑ) ہونے والی تھی۔ تاکہ جو ہلاک ہو وہ اتمامِ حجت کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو وہ بھی اتمام حجت کے بعد زندہ رہے بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And recall what time ye were on the hither side and they were on the yonder side and the caravan below you. And if ye had mutually appointed ye would surely have failed the appointment. But the action wao brought about in order that Allah may decree an affair already enacted, so that he who was to perish, should perish after an evidence and he who was to remain alive may remain alive after an evidence. And verily Allah is Hearing, Knowing. |
| M.M.Pickthall: | When ye were on the near bank (of the valley) and they were on the yonder bank, and the caravan was below you (on the coast plain). And had ye trysted to meet one another ye surely would have failed to keep the tryst, but (it happened, as it did, without the forethought of either of you) that Allah might conclude a thing that must be done; that he who perished (on that day) might perish by a clear proof (of His Sovereignty) and he who survived might survive by a clear proof (of His Sovereignty). Lo! Allah in truth is Hearer, Knower. |
| Saheeh International: | [Remember] when you were on the near side of the valley, and they were on the farther side, and the caravan was lower [in position] than you. If you had made an appointment [to meet], you would have missed the appointment. But [it was] so that Allah might accomplish a matter already destined - that those who perished [through disbelief] would perish upon evidence and those who lived [in faith] would live upon evidence; and indeed, Allah is Hearing and Knowing. |
| Shakir: | When you were on the nearer side (of the valley) and they were on the farthest side, while the caravan was in a lower place than you; and if you had mutually made an appointment, you would certainly have broken away from the appointment, but-- in order that Allah might bring about a matter which was to be done, that he who would perish might perish by clear proof, and he who would live might live by clear proof; and most surely Allah is Hearing, Knowing; |
| Yusuf Ali: | Remember ye were on the hither side of the valley, and they on the farther side, and the caravan on lower ground than ye. Even if ye had made a mutual appointment to meet, ye would certainly have failed in the appointment: But (thus ye met), that Allah might accomplish a matter already enacted; that those who died might die after a clear Sign (had been given), and those who lived might live after a Clear Sign (had been given). And verily Allah is He Who heareth and knoweth (all things). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
تاریخی ایت ہے، جنگ بدر کی بات ہے
یہ اللہ کی مرضی تھی کہ جنگ ہر صورت میں ہونی ہے