Chapter No 9-پارہ نمبر    ‹       The Spoils of War-8 سورت الانفال ›Ayah No-22 ایت نمبر
| اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ |
| آسان اُردو | بے شک! اﷲ کے نزدیک جانداروں میں سے بدترین ( وہ ) بہرے، گونگے( لوگ )ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | یقین رکھو کہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے |
| احمد رضا خان | بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں |
| احمد علی | بے شک سب جانوں میں سے بدتر الله کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے |
| فتح جالندھری | کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے |
| طاہر القادری | بیشک اللہ کے نزدیک جانداروں میں سب سے بدتر وہی بہرے، گونگے ہیں جو (نہ حق سنتے ہیں، نہ حق کہتے ہیں اور حق کو حق) سمجھتے بھی نہیں ہیں، |
| علامہ جوادی | اللہ کے نزدیک بد ترین زمین پر چلنے والے وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | بےشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ (ذرا) نہیں سمجھتے |
| حسین نجفی | بے شک اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے بدتر جانور وہ (انسان) ہیں جو بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔ |
| M.Daryabadi: | Verily the vilest of beasts with Allah are the deaf and dumb who understand not. |
| M.M.Pickthall: | Lo! the worst of beasts in Allah's sight are the deaf, the dumb, who have no sense. |
| Saheeh International: | Indeed, the worst of living creatures in the sight of Allah are the deaf and dumb who do not use reason. |
| Shakir: | Surely the vilest of animals, in Allah's sight, are the deaf, the dumb, who do not understand. |
| Yusuf Ali: | For the worst of beasts in the sight of Allah are the deaf and the dumb,- those who understand not. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
سننے اور اطاعت کرنے کے تناظر میں
یہ ایت ایک اٹل حقیقت بیان کر رہی ہے کہ وہ لوگ جو اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتے ان کی حثیت کیا ہے