اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 9-پارہ نمبر          The Spoils of War-8 سورت الانفال Ayah No-1 ایت نمبر


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کے نام سے جو رحمان (اور) رحیم ہے
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
آسان اُردو وہ آپؐ سے مالِ غنیمت کے متعلق سوال کرتے (پُوچھتے) ہیں( آپؐ )کہیں: مالِ غنیمت اللہ اور رسولؐ کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو (اللہ کا تقوی کرو) ، اور اپنے درمیان معاملات (تعلقات) کی اصلاح کرو،اور اگر تم (واقعی) مومنین ہو تو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (اے پیغمبر) لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مال غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مومن ہو۔
ابو الاعلی مودودی تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں؟ کہو “یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کے ہیں، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو"
احمد رضا خان اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ ڈرو اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،
احمد علی تجھ سے غنیمت کا حکم پوچھتے ہیں کہہ دے غنیمت کا مال الله اور رسول کا ہے سو الله سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو اور الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر ایمان دار ہو
فتح جالندھری (اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
طاہر القادری (اے نبئ مکرّم!) آپ سے اَموالِ غنیمت کی نسبت سوال کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: اَموالِ غنیمت کے مالک اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات کو درست رکھا کرو اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کیا کرو اگر تم ایمان والے ہو،
علامہ جوادی پیغمبر یہ لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ انفال سب اللہ اور رسول کے لئے ہیں لہٰذا تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس میں اصلاح کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو اگر تم اس پر ایمان رکھنے والے ہو
ایم جوناگڑھی یہ لوگ آپ سے غنیمتو ں کا حکم دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے! کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو
حسین نجفی (اے رسول) لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ انفال اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے ہیں۔ پس اگر تم مؤمن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ اور اپنے باہمی تعلقات و معاملات کی اصلاح کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
=========================================
M.Daryabadi: They ask thee concerning the spoils of war. Say thou: the spoils of war are Allah's and the apostle's. So fear Allah, and set right the matter among you, and obey Allah and His apostle if ye are believers.
M.M.Pickthall: They ask thee (O Muhammad) of the spoils of war. Say: The spoils of war belong to Allah and the messenger, so keep your duty to Allah, and adjust the matter of your difference, and obey Allah and His messenger, if ye are (true) believers.
Saheeh International: They ask you, [O Muhammad], about the bounties [of war]. Say, "The [decision concerning] bounties is for Allah and the Messenger." So fear Allah and amend that which is between you and obey Allah and His Messenger, if you should be believers.
Shakir: They ask you about the windfalls. Say: The windfalls are for Allah and the Apostle. So be careful of (your duty to) Allah and set aright matters of your difference, and obey Allah and His Apostle if you are believers.
Yusuf Ali: They ask thee concerning (things taken as) spoils of war. Say: "(such) spoils are at the disposal of Allah and the Messenger: So fear Allah, and keep straight the relations between yourselves: Obey Allah and His Messenger, if ye do believe."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

سورت کی ابتداء
محکم: ایک ایسی ایت جس میں کوئی چیز کرنے یہ نہ کرنے کا حکم ہوتا ہے.کوئی ایت پوری کی پوری محکم ہو سکتی ہے یا مذکورہ ایت کا کوئی حصہ محکم ہو سکتا ہے
اس ایت میں اطاعت سے مراد وہ تین احکامات ہیں جو اس ایت میں دیے گے ہیں
قرآن میں جہاں جہاں بھی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تقریباَ وہاں کوئی خاص حکم یا احکامت واضح کیے گے ہیں