Chapter No 9-پارہ نمبر    ‹       The Heights-7 سورت الاعراف ›Ayah No-93 ایت نمبر
| فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ |
| آسان اُردو | پھروہ (شعیب) اُن سے پھرا اور کہا: اے میری قوم! واقعی میں نے اپنے رب کے پیغامات تم تک پہنچائے اور تم کو اچھی نصیحت بھی کی؛ پھر میں کسطرح (یا کیوں) کافر(نہ ماننے والے) لوگوں پر افسوس کروں؟ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | چنانچہ وہ (یعنی شعیب ؑ) ان سے منہ موڑ کر چل دیے، اور کہنے لگے : اے قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے تھے، اور تیرا بھلا چاہا تھا۔ (مگر) اب میں اس قوم پر کیا افسوس کروں جو ناشکری تھی۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے برادران قوم، میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے" |
| احمد رضا خان | تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیونکر غم کروں کافروں کا، |
| احمد علی | پھر ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم تحقیق میں نے تمہیں اپنے رب کے احکام پہنچا دیے اور میں نے تمہارے لیے خیر خواہی کی پھر کافروں کی قوم پر میں کیوں کر غم کھاؤں |
| فتح جالندھری | تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں |
| طاہر القادری | تب (شعیب علیہ السلام) ان سے کنارہ کش ہوگئے اور کہنے لگے: اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہیں نصیحت (بھی) کردی تھی پھر میں کافر قوم (کے تباہ ہونے) پر افسوس کیونکر کروں، |
| علامہ جوادی | اس کے بعد شعیب علیھ السّلامنے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ اے قوم میں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچادیا اور تمہیں نصیحت بھی کی تو اب کفر اختیار کرنے والوں کے حال پر کس طرح افسوس کروں |
| ایم جوناگڑھی | اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں |
| حسین نجفی | (اس وقت) وہ ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا اے میری قوم! میں نے تو یقیناً اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے تھے اور تمہیں نصیحت بھی کی تھی تو (اب) کافر قوم (کے عبرتناک انجام) پر کیونکر افسوس کروں؟ |
| M.Daryabadi: | Then he turned from them, and said: my people! assuredly I delivered unto you the messages of my Lord, and counselled you good; how then should I lament over an unbelieving people? |
| M.M.Pickthall: | So he turned from them and said: O my people! I delivered my Lord's messages unto you and gave you good advice; then how can I sorrow for a people that rejected (truth)? |
| Saheeh International: | And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?" |
| Shakir: | So he turned away from them and said: O my people! certainly I delivered to you the messages of my Lord and I gave you good advice; how shall I then be sorry for an unbelieving people? |
| Yusuf Ali: | So Shu'aib left them, saying: "O my people! I did indeed convey to you the messages for which I was sent by my Lord: I gave you good counsel, but how shall I lament over a people who refuse to believe!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
تاریخی ایت
شیعب ؐ اور انکی قوم