Chapter No 8-پارہ نمبر    ‹       The Heights-7 سورت الاعراف ›Ayah No-73 ایت نمبر
| وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ |
| آسان اُردو | اور ثمود (قبیلے) کی طرف اُن کے بھائی صالح کو (بھیجا) اُس نے کہا: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی معبودنہیں۔ واقعی تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح ثبوت آ چکاہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی (جو) تمہارے لیے ایک نشانی ہے؛پس اُسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرے( کھائے) ،اور اُس کو برائی سے نہ چُھونا (ورنہ)پھرایک درد ناک عذاب تمہیں جکڑلے گا |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ اس لیے اس کو آزاد چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اسے کسی برائی کے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں ایک دکھ دینے والا عذاب آپکڑے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آ گئی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آ لے گا |
| احمد رضا خان | اور ثمود کی طرف ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں درد ناک عذاب آئے گا، |
| احمد علی | اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہیں تمہراے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے یہ الله کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے سو اسے چھوڑ دو کہ الله کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح سے ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑے گا |
| فتح جالندھری | اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا |
| طاہر القادری | اور (قومِ) ثمود کی طرف ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) کو (بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کیا کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آگئی ہے۔ یہ اﷲ کی اونٹنی تمہارے لئے نشانی ہے، سو تم اسے (آزاد) چھوڑے رکھنا کہ اﷲ کی زمین میں چَرتی رہے اور اسے برائی (کے ارادے) سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں دردناک عذاب آپکڑے گا، |
| علامہ جوادی | اور ہم نے قوم ثمود علیھ السّلام کی طرف ان کے بھائی صالح علیھ السّلامکو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم والو اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے -تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے دلیل آچکی ہے -یہ خدائی ناقہ ہے جو تمہارے لئے اس کی نشانی ہے -اسے آزاد چھوڑ دو کہ زمینِ خدا میں کھاتا پھرے اور خبردار اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا کہ تم کو عذاب الیم اپنی گرفت میں لے لے |
| ایم جوناگڑھی | اور ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہ کہیں تم کو دردناک عذاب آپکڑے |
| حسین نجفی | اور قومِ ثمود کی طرف ان کے (قومی) بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارے پروردگار کی طرف سے (میری صداقت کا) ایک خاص معجزہ آچکا ہے جو یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک (قدرتی) نشانی (معجزہ) ہے اسے کھلا چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چَرتی پھرے۔ اور (خبردار) اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا (اسے تکلیف نہ پہنچانا) ورنہ دردناک عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔ |
| M.Daryabadi: | And unto Thamud We sent their brother, Salih He said: my people! worship Allah, no god ye have but He; surely there hath come unto you an evidence from your Lord. Yonder is the she-camel of Allah: a sign unto you; so leave her alone, pasturing on Allah's earth, and touch her not with evil, lest there seize you a torment afflictive. |
| M.M.Pickthall: | And to (the tribe of) Thamud (We sent) their brother Salih. He said: O my people! Serve Allah. Ye have no other Allah save Him. A wonder from your Lord hath come unto you. Lo! this is the camel of Allah, a token unto you; so let her feed in Allah's earth, and touch her not with hurt lest painful torment seize you. |
| Saheeh International: | And to the Thamud [We sent] their brother Salih. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. This is the she-camel of Allah [sent] to you as a sign. So leave her to eat within Allah 's land and do not touch her with harm, lest there seize you a painful punishment. |
| Shakir: | And to Samood (We sent) their brother Salih. He said: O my people! serve Allah, you have no god other than Him; clear proof indeed has come to you from your Lord; this is (as) Allah's she-camel for you-- a sign, therefore leave her alone to pasture on Allah's earth, and do not touch her with any harm, otherwise painful chastisement will overtake you. |
| Yusuf Ali: | To the Thamud people (We sent) Salih, one of their own brethren: He said: "O my people! worship Allah: ye have no other god but Him. Now hath come unto you a clear (Sign) from your Lord! This she-camel of Allah is a Sign unto you: So leave her to graze in Allah's earth, and let her come to no harm, or ye shall be seized with a grievous punishment. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد یا الگ ایت نیا عنوان
تاریخی ایت
صالح ؐ اور ان کی قوم ثمود