اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 8-پارہ نمبر          The Heights-7 سورت الاعراف Ayah No-48 ایت نمبر

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ
آسان اُردو اور اُونچائی کے ساتھی (کچھ) مردوں کو پکاریں گے وہ اُنہیں اُن کے نشانات سے پہچانتے ہوں گے وہ کہتے ہیں: تمہارے مجمعے( ٹولے) اور جن(چیزوں) کا تم تکبر کیا کرتے تھے تمہیں کیا فاہدہ دیا ہے؟
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور اعراف والے ان لوگوں کو آواز دیں گے جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ کہیں گے کہ : نہ تمہاری جمع پونجی تمہارے کچھ کام آئی، اور نہ وہ جنہیں تم بڑا سمجھے بیٹھے تھے۔
ابو الاعلی مودودی پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ "دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے
احمد رضا خان اور اعراف والے کچھ مردوں کو پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے
احمد علی اور اعراف والے پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے کہیں گے تمہاری جماعت تمہارے کسی کام نہ آئی اور نہ وہ جو تم تکبر کیا کرتے تھے
فتح جالندھری اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
طاہر القادری اور اہلِ اعراف (ان دوزخی) مردوں کو پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچان رہے ہوں گے (ان سے) کہیں گے: تمہاری جماعتیں تمہارے کام نہ آسکیں اور نہ (وہ) تکبّر (تمہیں بچا سکا) جو تم کیا کرتے تھے،
علامہ جوادی اور اعراف والے ان لوگوں کو جنہیں وہ نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے آواز دیں گے کہ آج نہ تمہاری جماعت کام آئی اور نہ تمہارا غرور کام آیا
ایم جوناگڑھی اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا
حسین نجفی اور پھر اعراف والے لوگ (دوزخ والے چند آدمیوں کو) آواز دیں گے جنہیں وہ علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ کہ آج تمہاری جمعیت اور تمہارا غرور و پندار کچھ کام نہ آیا اور تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔
=========================================
M.Daryabadi: And the fellows of the heights will cry unto the men whom they would recognise by their mark, and say: your multitude availed you naught nor that over which ye were wont to be stiff-necked.
M.M.Pickthall: And the dwellers on the Heights call unto men whom they know by their marks, (saying): What did your multitude and that in which ye took your pride avail you?
Saheeh International: And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, "Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant."
Shakir: And the dwellers of the most elevated places shall call out to men whom they will recognize by their marks saying: Of no avail were to you your amassings and your behaving haughtily:
Yusuf Ali: The men on the heights will call to certain men whom they will know from their marks, saying: "Of what profit to you were your hoards and your arrogant ways?
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
اہل جنت کے بارے میں ہے جو وہ وہاں باتیں کریں گے
مستقبل کی بات یعنی مرنے کے بعد دوسری زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے