اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 9-پارہ نمبر          The Heights-7 سورت الاعراف Ayah No-166 ایت نمبر

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ
آسان اُردو پھر جب وہ سرکشی کرنے لگے اس سے جس سے وہ منع کئے گے تھے تو ہم نے اُن کوکہا: کہ ذلیل نفرت زندہ بندر ہو جاﺅ
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے ان سے کہا : جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ
ابو الاعلی مودودی پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار
احمد رضا خان پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بند ر دھتکارے ہوئے
احمد علی پھر جب وہ اس کام میں حد سے آگے بڑھ گئے جس سے روکے گئے تھے تو ہم نے حکم دیا کہ ذلیل ہونے والے بندر ہو جاؤ
فتح جالندھری غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
طاہر القادری پھر جب انہوں نے اس چیز (کے ترک کرنے کے حکم) سے سرکشی کی جس سے وہ روکے گئے تھے (تو) ہم نے انہیں حکم دیا کہ تم ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ،
علامہ جوادی پھر جب دوبارہ ممانعت کے باوجود سرکشی کی تو ہم نے حکم دے دیا کہ اب ذلّت کے ساتھ بندر بن جاؤ
ایم جوناگڑھی یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ
حسین نجفی (جب یہ عذاب بھی ان کو سرکشی سے باز نہ رکھ سکا) اور وہ برابر سرکشی کرتے چلے گئے ان چیزوں کے بارے میں جن سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے کہا بندر ہو جاؤ ذلیل اور راندے ہوئے۔
=========================================
M.Daryabadi: So when they exceeded the bounds of that which they were prohibited We said unto them: be ye apes despised.
M.M.Pickthall: So when they took pride in that which they had been forbidden, We said unto them: Be ye apes despised and loathed!
Saheeh International: So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised."
Shakir: Therefore when they revoltingly persisted in what they had been forbidden, We said to them: Be (as) apes, despised and hated.
Yusuf Ali: When in their insolence they transgressed (all) prohibitions, We said to them: "Be ye apes, despised and rejected."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
موسی ؐ، اور قوم موسیؐ
تاریخی ایت