اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 28-پارہ نمبر                       Exile-59 سورت الحشر Ayah No-9 ایت نمبر

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ
آسان اُردو اور وہ لوگ جو ان (مہاجرین) سے پہلے گھروں اور ایمان میں داخل ہوئے، وہ محبت کرتے ہیں (اُن سے) جو اُن کی طرف ہجرت کر کے آئے ہیں، اور اپنے دل میں (اُس چیزکی) حاجت نہیں رکھتے جو اُن (مہاجروں) کو دی گی ہے،اور وہ اپنے اوپر (ان مہاجرین کو) ترجیح دیتے ہیں اور چاہے غریبی ان کوآ جائے. اور جو کوئی اپنے نفس کے لالچ سے بچا لیا جاتا ہے۔۔پھر یہی(لوگ) ہیں (کہ)،وہ کامیاب ہیں
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
ابو الاعلی مودودی (اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالحجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دیدیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں
احمد رضا خان اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کو جو دیے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں،
احمد علی اور وہ (مال) ان کے لیے بھی ہے کہ جنہوں نے ان سے پہلے (مدینہ میں) گھر اور ایمان حاصل کر رکھا ہے جو ان کے پاس وطن چھوڑ کرآتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں اور اپنے سینوں میں اس کی نسبت کوئی خلش نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جائے اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا جائے پس وہی لوگ کامیاب ہیں
فتح جالندھری اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں
طاہر القادری (یہ مال اُن انصار کے لئے بھی ہے) جنہوں نے اُن (مہاجرین) سے پہلے ہی شہرِ (مدینہ) اور ایمان کو گھر بنا لیا تھا۔ یہ لوگ اُن سے محبت کرتے ہیں جو اِن کی طرف ہجرت کر کے آئے ہیں۔ اور یہ اپنے سینوں میں اُس (مال) کی نسبت کوئی طلب (یا تنگی) نہیں پاتے جو اُن (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو، اور جو شخص اپنے نفس کے بُخل سے بچا لیا گیا پس وہی لوگ ہی بامراد و کامیاب ہیں،
علامہ جوادی اور جن لوگوں نے دارالہجرت اور ایمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ انہیں دیا گیا ہے اپنے دلوں میں اس کی طرف سے کوئی ضرورت نہیں محسوس کرتے ہیں اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاہے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو.... اور جسے بھی اس کیے نفس کی حرص سے بچالیا جائے وہی لوگ نجات پانے والے ہیں
ایم جوناگڑھی اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے
حسین نجفی (اور یہ مال) ان کیلئے بھی ہے جو ان (مہاجرین) سے پہلے ان دیار (دارالہجرت مدینہ) میں ٹھکانا بنائے ہوئے ہیں اور ایمان لائے ہوئے ہیں اور جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتا ہے وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جائے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی ناخوشی محسوس نہیں کرتے اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ضرورت مند ہوں (فاقہ میں ہوں) اور جسے اپنے نفس کے حرص سے بچا لیا گیا وہی فلاح پانے والے ہیں۔
=========================================
M.Daryabadi: And it is also due Unto those who are settled in the dwelling and the faith before them, loving those who have migrated Unto them, and finding in their breasts no desire for that which hath been given them, and preferring them above themselves even though there was want amongst them. And whosoever is Preserved from covetousness of his soul, then those! - they are the blissful.
M.M.Pickthall: Those who entered the city and the faith before them love those who flee unto them for refuge, and find in their breasts no need for that which hath been given them, but prefer (the fugitives) above themselves though poverty become their lot. And whoso is saved from his own avarice - such are they who are successful.
Saheeh International: And [also for] those who were settled in al-Madinah and [adopted] the faith before them. They love those who emigrated to them and find not any want in their breasts of what the emigrants were given but give [them] preference over themselves, even though they are in privation. And whoever is protected from the stinginess of his soul - it is those who will be the successful.
Shakir: And those who made their abode in the city and in the faith before them love those who have fled to them, and do not find in their hearts a need of what they are given, and prefer (them) before themselves though poverty may afflict them, and whoever is preserved from the niggardliness of his soul, these it is that are the successful ones.
Yusuf Ali: But those who before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith,- show their affection to such as came to them for refuge, and entertain no desire in their hearts for things given to the (latter), but give them preference over themselves, even though poverty was their (own lot). And those saved from the covetousness of their own souls,- they are the ones that achieve prosperity.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

علمی و تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
٭نفس کا لالچ ہی انسان کو برباد کر دیتا ہے اور جو کوئی اس سے بچا لیا جاتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے
ایک اصول بتا دیا گیا ہے نفس کے لالچ کے بارے میں