Chapter No 28-پارہ نمبر    ‹               She that Disputeth-58 سورت المجادلۃ ›Ayah No-8 ایت نمبر
| اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ |
| آسان اُردو | کیا تم نہیں دیکھا اُن کی طرف جن کو خفیہ سرگوشیوں (کھسر پھسر) سے منع کر دیا گیا تھا پھر وہ واپس اس کی طرف جاتے ہیں جس سے اُن کو منع کیا گیا تھا، اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ اور زیادتی اور رسولﷺ کی نافرمانی کی؟ اور جب وہ آپﷺ کے پاس آتے ہیں تو وہ آپﷺ کو اُس (کلمے) سے دعا دیتے ہیں جس سے اللہ آپﷺ کو دعا نہیں دیتا، اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں: کہ اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا اُس وجہ سے جو ہم کہتے ہیں؟ جہنم اُن کو کافی ہو گی؛ وہ اُس میں جلیں گے. پھر بہت ہی برا خاتمہ(انجام) ہے! |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسی سرگوشیاں کرتے ہیں جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں ایسے طریقے سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ : ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دے دیتا ؟ جہنم ہی ان (کی خبر لینے) کے لیے کافی ہے، وہ اسی میں جا پہنچیں گے، اور وہ پہنچنے کی بہت بری جگہ ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کر دیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اُس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری اِن باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا اُن کے لیے جہنم ہی کافی ہے اُسی کا وہ ایندھن بنیں گے بڑا ہی برا انجام ہے اُن کا |
| احمد رضا خان | کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام، |
| احمد علی | کیا آپ نے ان کو نہیں دیکھا جو سرگوشی کرنے سے روکے گئے تھے پھر وہ اسی بات کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انہیں روکا گیا تھا اور گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظوں سے سلام کرتے ہیں جن سے الله نے آپ کو سلام نہیں دیا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمیں الله اس پر کیوں عذاب نہیں دیتا جو ہم کہہ رہے ہیں ان کے لیے دوزخ کافی ہے وہ اس میں داخل ہوں گے پس وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے |
| فتح جالندھری | کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے |
| طاہر القادری | کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشیوں سے منع کیا گیا تھا پھر وہ لوگ وہی کام کرنے لگے جس سے روکے گئے تھے اور وہ گناہ اور سرکشی اور نافرمانئ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو آپ کو اُن (نازیبا) کلمات کے ساتھ سلام کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ رسول سچے ہیں تو) اللہ ہمیں اِن (باتوں) پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انہیں دوزخ (کا عذاب) ہی کافی ہے، وہ اسی میں داخل ہوں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے، |
| علامہ جوادی | کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں راز کی باتوں سے منع کیا گیا لیکن وہ پھر بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور گناہ اور ظلم اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ راز کی باتیں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اس طرح مخاطب کرتے ہیں جس طرح خدا نے انہیں نہیں سکھایا ہے اور اپنے دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم غلطی پر ہیں تو خدا ہماری باتوں پر عذاب کیوں نہیں نازل کرتا - حالانکہ ان کے لئے جہنّم ہی کافی ہے جس میں انہیں جلنا ہے اور وہ بدترین انجام ہے |
| ایم جوناگڑھی | کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے، سو وه برا ٹھکانا ہے |
| حسین نجفی | کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھاجنہیں (اسلام کے خلاف) سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور وہ گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کی سرگوشیاں (خفیہ میٹنگیں) کرتے ہیں اور جب آپ(ص) کے پاس آتے ہیں تو آپ(ص) کو کس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ(ص) کو سلام نہیں کیا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ برحق نبی(ص) ہیں تو) اللہ ہماری ان باتوں پر ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں کرتا؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے جس میں وہ پڑیں گے (اور اس کی تپش اٹھائیں گے) سو وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟ |
| M.Daryabadi: | Observest thou not those who were forbidden whispering and they afterwards returned to that which they had been forbidden; and they whisper Unto each Other of sin, transgression and disobedience reward the apostle! And when they came Unto thee, they greet thee with that wherewith Allah greeteth thee not, and say within themselves: wherefore god tormented us not for that which we say? Sufficient Unto them is Hell, where in they will roast: a hapless destination! |
| M.M.Pickthall: | Hast thou not observed those who were forbidden conspiracy and afterward returned to that which they had been forbidden, and (now) conspire together for crime and wrongdoing and disobedience toward the messenger? And when they come unto thee they greet thee with a greeting wherewith Allah greeteth thee not, and say within themselves: Why should Allah punish us for what we say? Hell will suffice them; they will feel the heat thereof - a hapless journey's end! |
| Saheeh International: | Have you not considered those who were forbidden from private conversation, then they return to that which they were forbidden and converse among themselves about sin and aggression and disobedience to the Messenger? And when they come to you, they greet you with that [word] by which Allah does not greet you and say among themselves, "Why does Allah not punish us for what we say?" Sufficient for them is Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the destination. |
| Shakir: | Have you not seen those who are forbidden secret counsels, then they return to what they are forbidden, and they hold secret counsels for sin and revolt and disobedience to the Apostle, and when they come to you they greet you with a greeting with which Allah does not greet you, and they say in themselves: Why does not Allah punish us for what we say? Hell is enough for them; they shall enter it, and evil is the resort. |
| Yusuf Ali: | Turnest thou not thy sight towards those who were forbidden secret counsels yet revert to that which they were forbidden (to do)? And they hold secret counsels among themselves for iniquity and hostility, and disobedience to the Messenger. And when they come to thee, they salute thee, not as Allah salutes thee, (but in crooked ways): And they say to themselves, "Why does not Allah punish us for our words?" Enough for them is Hell: In it will they burn, and evil is that destination! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
تاریخی ایت